The news is by your side.

’روزیٹو ایفیکٹ‘: وہ طبّی تحقیق جس نے اٹلی کے باسیوں کو امریکا میں شہرت دی

’’روزیٹو وال فورٹر‘‘ (Roseto Valfortore) ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اٹلی کے ’’فورجیا‘‘ صوبے میں ’’ایلپنائن‘‘ کی سر سبز و شاداب ترائیوں میں واقع اس گاؤں کے مرکز میں قرونِ وسطی کی طرز پر ایک پتھریلی عمارت تعمیر کی گئی تھی جس سے مختلف راستے نکل کر آگے کو جاتے تھے۔

پہاڑی راستوں کے ساتھ پتّھر کے مکانات تعمیر کیے گئے تھے۔ گاؤں کے راستے چھوٹی بل کھاتی پگڈنڈیوں کی شکل کے تھے۔ یہاں کے لوگ یا تو نیچے وادی میں جا کر کھیتی باڑی کیا کرتے تھے یا قریب کے پہاڑوں میں جا کر سنگِ مر مر کھودتے تھے۔ صدیوں سے یہ سلسلہ جاری تھا۔ یہاں تک کہ 19 ویں صدی میں مواقع کی سر زمین امریکا نے یہاں کے چند لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ 1882ء میں 11 لوگوں نے نیویارک کا قصد کیا۔ 10 مرد اور ایک لڑکا۔

’’پینسلوانیا‘‘ میں ’’بنگور‘‘ کے قصبے کے قریب انھیں کان کنی کا کام ملا۔ یہ اطلاعات جب روزیٹو پہنچیں تو وہاں کے افراد میں نقل مکانی کا جذبہ بیدار ہوا۔ اُسی برس روزیٹو سے 15 مزید باسی ان سے آن ملے۔ پھر تو گویا روزیٹو والوں نے سیلاب کی طرح امریکا کا رخ کیا۔ یہاں تک ہوا کہ صرف 1894ء میں امریکا جانے کے لیے روزیٹو کے 1200 افراد نے درخواستیں جمع کروائیں۔ کچھ عرصے بعد تو کیفیت یہ تھی کہ اس قدیم گاؤں کی ایک پوری گلی لوگوں کی امریکا ہجرت کے باعث ویران ہو گئی تھی۔ روزیٹو کے زیادہ تر لوگوں نے بنگور کے قریبی علاقے کا رخ کیا جہاں ان کے ہم وطن آباد تھے۔ وہاں ان لوگوں نے زمینیں خریدنا شروع کر دیں۔ بنگور کو جانے والے پہاڑی راستے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے سنگی (پتھروں سے) گھر تعمیر کرنا شروع کر دیے۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہاں بھی اٹلی کے روزیٹو کی طرز پر مکانات تعمیر ہوتے چلے گئے۔ مکانات کی چھت بھی عموماً کان سے نکالے گئے پتھر ہی کی بنائی جانے لگی۔ بنتے بنتے گھر ایک چھوٹے گاؤں کی شکل اختیار کر گئے۔ وہاں ایک چرچ بھی تعمیر کر لیا گیا۔ اس چرچ کا نام انھوں نے اپنے اٹلی والے گاؤں کے چرچ کے نام پر ’’لیڈی اوف ماؤنٹ کیرمل‘‘ رکھا۔ ابتدا میں اس نئے قصبے کا نام نیو اٹلی رکھا گیا لیکن پھر اسے جلد ہی’’روزیتو‘‘ سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس نام پر کسی کو بھی اعتراض نہ تھا۔ اس لیے بھی کے وہاں کے سب ہی افراد روزیٹو ہی سے تو آئے ہوئے تھے۔ انھیں تو اس نام سے البتہ ایک خاص انسیت تھی۔

یوں امریکا میں بھی ایک نیا روزیٹو آباد ہو گیا۔ وہی چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں والی گلیاں، وہی زبان، وہی ماحول۔ 1896ء میں ایک نوجوان پادری فادر پاسکل ڈی نِسکو نے چرچ کی ذمے داریاں سنبھالیں۔ اس نے قصبے کے افراد کی توجہ اناج اور پھلوں کی کاشت کی جانب مبذول کروائی۔ یہاں کئی فلاحی انجمنیں تشکیل دیں۔لوگوں نے کام کا آغاز کر دیا۔ جلد ہی کایا کلپ ہو گئی۔ روزیٹو کے افراد کی زندگی تبدیل ہو گئی۔ ایک معاشی انقلاب آ گیا۔ لوگ آسودہ حال ہو گئے۔ لیکن یہ ایک الگ تھلگ قصبہ تھا۔ آس پاس کے علاقوں میں اگرچہ جرمن اور انگریز آباد ہوئے لیکن پینسلوانیا کے روزیتو میں صرف اٹلی کے روزیٹو سے آئے ہوئے افراد ہی بسے۔

1900ء میں اگر کوئی اس قصبے کا رخ کرتا تو یقیناً ایک لمحے کے لیے تو وہ ضرور حیران رہ جاتا کہ وہ اٹلی میں ہے یا امریکا میں۔ منفرد اور الگ رہنے والا یہ گاؤں شاید ہی کبھی کسی کے علم میں آتا اگر ’’اسٹیورٹ وولف‘‘ یہاں کا رخ نہ کرتے۔

اسٹیورٹ وولف ایک معالج تھے۔ ان کا خاص شعبۂ تحقیق انسان کا نظامِ ہضم اور معدہ تھا۔ وہ ’’اوکلو ہاما یونیورسٹی‘‘ کے شعبۂ طبّ میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ ان کی گرمیاں پنسلوانیا کے ایک فارم میں گزرا کرتی تھیں۔ یہ فارم ’’روزیتو‘‘ سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔

یہ 1950ء کی بات ہے جب مقامی سطح پر قائم ایک طبّی انجمن نے مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں اسٹیورٹ وولف بھی شریک تھے۔ مذاکرے کے بعد ایک مقامی ڈاکٹر نے اسٹیورٹ وولف کو روزیتو کے بارے میں ایک حیرت انگیز بات بتائی۔ اس نے کہا کہ میں یہاں 17 برس سے مطب کر رہا ہوں۔ ہر طرح کے مریض آتے ہیں، لیکن روزیتو سے آج تک دل کے مرض میں مبتلا ایک بھی ایسا مریض نہیں آیا جس کی عمر65 برس سے کم ہو۔

امریکا میں اس وقت بھی امراضِ قلب وبا کی طرح پھوٹے پڑ رہے تھے۔ دل کا دورہ 65 برس سے کم عمر افراد کے موت کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا تھا۔ ایسے میں ایک ڈاکٹر کا یہ بیان ناقابلِ یقین تھا۔ بس یہاں سے تحقیق کا ایک دروازہ کھل گیا۔ یونیورسٹی اوکلو ہاما سے ماہرین اور طلبہ بلوائے گئے۔ تحقیق شروع ہو گئی۔ حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ دیکھا یہ گیا کہ 55 برس سے کم عمر ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جو کسی دل کی بیماری کی وجہ سے کبھی مرا ہو۔ 65 برس سے زیادہ عمر کے افراد میں بھی دل کے امراض کا تناسب حیرت انگیز طور پر کم تھا۔ مزید برآں وہاں کے افراد کی عمریں دیگر امریکیوں کے مقابلے میں زیادہ تھیں۔ ان حقائق کو جان لینے کے بعد اگلا سوال یہ تھا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

آس پاس کے علاقے میں اور سارے امریکا میں لوگ دل کے امراض کا شکار ہو کر مرے چلے جا رہے ہیں جب کہ روزیٹو کے افراد ہیں کہ ان پر کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا، آخر کیوں؟ سب سے پہلے ان کی غذا اور ورزش کی طرف دھیان دیا گیا۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ یہ تو بہت چکنائی کھاتے ہیں۔ بہت سے امریکیوں سے بھی زیادہ۔ یہاں کے بہت سے افراد مٹاپے کا بھی شکار ہیں۔ غرض غذا کے بارے میں کی گئی تحقیق سے پتہ یہ چلا کہ ان کی غذا میں کوئی خاص بات نہیں۔

رہی مشقت اور ورزش تو ایسی بھی کوئی بات نظر نہ آئی جو انھیں عام امریکیوں سے ممیز کرتی ہو۔ اب اگلا سوال یہ تھا کہ کیا ان کے ’’جِینز‘‘ میں کچھ ایسا ہے جو انھیں امراضِ قلب سے بچائے رکھتا ہو اور طویل عمر دیتا ہو۔ اس مفروضے پر ایک بھرپور تحقیق کی گئی۔ اٹلی سے لے کر وہاں سے آئے ہوئے افراد تک کا جائزہ لیا گیا۔ خاص کر روزیٹو سے اُن افراد کا جو آس پاس کے علاقوں یا امریکا کے دیگر مقامات پر آباد تھے۔ کہیں کوئی سرا نہیں ملا۔ روزیٹو کے افراد کی صحت کا اَسرار ہر تحقیق کے بعد گنجلک ہوتا گیا۔

اس دوران اسٹیورٹ وولف یونیورسٹی سے تحقیق میں معاونت کے لیے اپنے ماہر سماجیات دوست ’’براہن‘‘ کو بھی بلوا چکے تھے۔ ایک دن اسٹیورٹ اور براہن روزیٹو کی گلیوں میں گھوم رہے تھے کہ اچانک اُن پر ایک انکشاف ہوا۔ انھوں نے روزیٹو کے افراد کی صحت کا راز پا لیا تھا! اگر میں اُسے دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ ہے ’’سماجی بندھن‘‘ اور ’’کچہری۔‘‘ انھوں نے دیکھا کہ روزیٹو کے افراد انتہائی حد تک ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کا خیال کرنے والے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ایک گھر میں تین تین نسلیں ساتھ رہ رہی ہیں۔ دوسرے وہ گپ شپ کے عادی ہیں۔

طبّی تاریخ کا یہ حیرت انگیز ترین نتیجہ تھا، جو ’’روزیٹو ایفیکٹ‘‘ کے نام سے محفوظ ہے۔ جان، جی براہن اور اسٹیورٹ وولف نے یہ تمام تحقیق اپنی کتاب ’’دی روزیٹو اسٹوری- اناٹمی آف ہیلتھ‘‘ میں پیش کی ہے۔

(کالم نگار اور مترجم شیخ جابر کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں