The news is by your side.

Advertisement

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 146 روپے کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا

کراچی :اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور ڈالر دو روپے پچیس پیسے اضافے کے ساتھ ایک سو چھیالیس روپے پچیس پیسے ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2.25 روپے مہنگاہوا، جس کے بعد ڈالر ملکی تاریخ کی بلند سطح 146 روپے25 پیسے پر پہنچ گیا۔

ٹریڈنگ کے آغاز پر انٹربینک میں روپے کی قدر میں استحکام دیکھنے میں آیا ، انٹربینک میں ڈالر 141روپے 39 پیسے پر ہی ٹریڈ کرتے ریکارڈ کیا گیا۔

ایکسچینج کرنسی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس جانا ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں ہونے والی مسلسل کمی باعث تشویش ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے 3 روز قبل مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کا عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدہ طے ہوگیا، آئی ایم ایف تین سال کے لیے پاکستان کو 6 ارب ڈالر دے گا جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی تین ارب ڈالرز کا قرض ملنے کا امکان ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پچھلےسال ایکسپورٹ اورامپورٹ میں 20ارب ڈالر کا فرق تھا، پاکستان آئندہ 2سال میں ریزرو 50فیصد گرے، آئی ایم ایف عالمی ادارہ ہےجواپنےرکن ملکوں کی مشکل میں مدد کرتاہے، آئی ایم ایف کے پاس جانے میں فوائد نظرآرہےہیں، مزیداضافی 2سے 3ارب ڈالر کم شرح سود پر ملے تو سرکلرڈیٹ میں بہتری آئے گی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو 300یونٹ سے کم صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑےگا، 75فیصدصارفین 300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، الیکٹرک پر سبسڈی کیلئے 50ارب روپےاضافی رکھے جارہےہیں جبکہ سوشل سیفٹی نیٹ میں 180ارب روپےاضافی رکھے جارہےہیں، سوشل سیفٹی نیٹ میں حکومت کا احساس پروگرام بھی شامل ہے۔

گذشتہ روز وفاقی کابینہ نے ایسیٹ ڈیکلیریشن اسکیم کی منظوری دی تھی ، جس کے بعد صدرعارف علوی نے ایسیٹ ڈیکلیریشن اسکیم کے آرڈیئننس پردستخط کردیے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں