The news is by your side.

Advertisement

روس کا یورپ کو سخت ردعمل دینے کا اعلان

روس نے دھکمی دی ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ جواباْ جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کرسکتا ہے۔

یوکرین پر حملے کے بعد روس کو امریکا، برطانیہ سمیت کئی مغربی اور یورپی ممالک اور اداروں کی جانب سے متعدد فوجی، اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پابندیوں کا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ دراز ہوتا جارہا ہے۔

حال ہی میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور دیگر یورپی رہنماؤں نے روسی تیل کے برآمد پر پابندی عائد کیے جانے سے متعلق بیانات دیے ہیں۔

غیرملکی نیوز ایجنسی  کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے روسی تیل درآمد کرنے پر پابندی لگانے کا جائزہ لے رہے ہیں، اسی سلسلے میں امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے روسی تیل کی پابندی کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔

گوکہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ کن بات سامنے نہیں آئی لیکن روس کا بھرپور ردعمل ضرور آگیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق روس نے دھمکی دی ہے اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ جواباْ جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بندکرسکتا ہے۔

اس سے قبل روسی نائب وزیراعظم نے یورپی رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ تیل پر پابندی کے باعث عالمی منڈی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘روسی تیل پر پابندی عالمی منڈی میں تباہ کن ثابت ہوگی’

غیرملکی میڈیا کے مطابق روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا تھا کہ روس مغرب پر انحصار نہیں کرتا اور وہ اپنی سپلائی کو کسی اور جگہ سے روٹ کرسکتا ہے مگر روسی تیل پر پابندی سے علامی منڈی پر تباہ کن اثرات پڑیں گے اور تیل کی قیمتیں 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں