ڈچ حکام نے سائبر حملوں میں ملوث روسی جاسوسوں کر چھوڑ دیا Russia cyber-plots
The news is by your side.

Advertisement

ڈچ حکام نے سائبر حملوں میں ملوث روسی جاسوسوں کر چھوڑ دیا

ایمسٹردیم : نیدر لینڈز کی حکومت نے دنیا بھر کے حساس اداروں پر سائبر حملوں میں ملوث روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ کے جاسوسوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ تبدیل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی طاقتوں نے روس پر دنیا کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے روسی جاسوسوں پر دنیا بھر کے حساس اداروں پر سائبر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کروایا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نیدر لینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹّی نے زیر تفتیش  روسی جاسوسوں کو  گھر  روانہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ کرمنل تفتیش نہیں تھی‘ اس لیے انہیں چھوڑ دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ڈچ حکومت کیمیائی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ادارے پر سائبر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں زیر تفتیش چاروں روسی جاسوسوں کو رہا کرنے کے فیصلہ کا دفاع کررہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا اور برطانیہ نے روس کے ایجنٹوں پر دنیا بھر میں ہونے والے سائبر حملوں کا الزام لگایا تھا بعد ازاں نیدر لینڈز بھی روس پر الزامات عائد کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔

دوسری جانب روسی حکام نے امریکا، برطانیہ اور نیدرلینڈز کے الزامات کو روس کے خلاف منظم مہم قرار دیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ رواں برس اپریل میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاہم جمعرات کے روز امریکا نے گرفتار روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ کے ایجنٹز سمیت مزید تین روسی جاسوسوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ  جمعے کے روز ماسکو نے نیدر لینڈز کے سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں