The news is by your side.

Advertisement

ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق روس کا اہم فیصلہ

کریملین نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں، ملک کے وجود کو خطرہ لاحق ہونے پر ایٹم بم استعمال کیا جاسکتا ہے

روس کے صدارتی محل کریملین نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے مغرب کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں روس کے وجود کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہی ایٹم بم کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پسکوف نے امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کی جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ یوکرین میں کسی بھی قسم کی کارروائی کا نتیجہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ نہیں بن سکتا۔

دیمتری پاسکوف نے مزید کہا کہ البتہ سلامتی کے بارے میں روس کا اپنا ایک مفہوم ہے اور وہ بہت واضح ہے کہ جب بھی روس کے وجود کو خطرہ ہو گا تو وہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے لیے ہی ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ روس یوکرین جنگ کے آغاز میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے لیس فوجی دستوں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’پیوٹن کے حکم نے دنیا کو ایٹمی تباہی کے قریب پہنچا دیا‘

روسی صدر کے اس حکم پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی بین الاقوامی مہم ’آئی کین‘ (ican) نے کہا تھا کہ پیوٹن کے حکم نے دنیا کو ایٹمی تباہی کے قریب پہنچا دیا ہے۔

آئی کین نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ولادی میر پیوٹن کی جانب سے ملک کی جوہری مزاحمتی افواج کو انتہائی چوکس رہنے کے حکم سے دنیا ایک جوہری تباہی کے قریب پہنچ گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں