The news is by your side.

Advertisement

روس: احتجاج میں شرکت کیوں کی؟ یورپی سفارت کار ملک بدر

ماسکو: روس نے غیر مجاز مظاہروں میں شرکت کرنے کے سبب سویڈش ، پولش اور جرمن سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈ یا رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سویڈش ، پولش اور جرمنی کے سفارتکاروں نے گذشتہ ماہ تئیس جنوری کو ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں غیر مجاز مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

روسی وزارت خارجہ کے مطابق ان واقعات پر سویڈن ، پولینڈ اور جرمنی کے سفیروں کو جمعہ کے روز روسی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا، اور انہیں 18 اپریل 1961 کے سفارتی تعلقات کے بارے میں ویانا کنونشن کی رو سے غیر مجاز ریلیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں ناپسندیدہ شخص قرار دیا گیا تھا، اس حکم نامے کے بعد انہیں جلد از جلد روس چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔

روسی وزارت نے اپنے بیان میں زور دیا کہ روس کو توقع ہے کہ سویڈن ، پولینڈ اور جرمنی کے سفارتی مشن اور ان کے اہلکار آئندہ بین الاقوامی قانون کی سختی سے پابندی کریں گے، اور روس میں کسی بھی غیر مجاز جلسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں روس میں اپوزیشن رہنما الیکسی نوالنی پانچ ماہ بعد وطن واپس پہنچے تھے تو انہیں ائیرپورٹ سے ہی حراست میں لیا گیا تھا، الیکسی نوالنی کی گرفتاری اور جیل میں ڈالنے کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے جبکہ روسی پولیس نے سیکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں