The news is by your side.

Advertisement

روس نے اٹلی کے ڈپٹی نیول اتاشی کو ملک بدر کر دیا

ماسکو: روس نے اٹلی کے سفارت کار کو ملک بدر کرتے ہوئے اٹلی میں تعینات اپنے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پیر کو ماسکو نے اطالوی نائب بحری اتاشی سی پیسیفسی کو پرسونا نان گریٹا (ناپسندیدہ شخصیت) قرار دیتے ہوئے ملک سے نکال دیا۔

گزشتہ ماہ اٹلی نے 2 روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا، روس کی جانب سے اس کارروائی کو بے بنیاد قرار دے کر اس کا جواب دیا گیا، تاہم ایک اطالوی سفارت کار کی ملک بدری اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ ماسکو اٹلی کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔

ماسکو کے دیگر مغربی ممالک کی نسبت اٹلی کے ساتھ زیادہ گرم جوش تعلقات استوار رہے ہیں، تاہم اطالوی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روسی اقدام بے بنیاد اور غیر منصفانہ ہے۔

اطالوی پولیس نے مارچ میں کہا تھا کہ انھوں نے ایک اطالوی بحریہ کپتان کو ایک روسی فوجی عہدے دار کو رقم کے بدلے خفیہ دستاویزات دیتے ہوئے پکڑا تھا۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں یورپی ممالک میں روسیوں کے خلاف جاسوسی کے الزامات لگانے کے سلسلے میں تازہ ترین تھا۔

متعدد سابق سوویت بلاک ممالک کی جانب سے اس ماہ یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر رہے ہیں، جو یقیناً ماسکو کو جوابی کارروائی پر اکسا رہے ہیں۔

اٹلی کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے 26 اپریل کو ماسکو میں اٹلی کے سفیر پاسکوئل ٹیرسکوئن کو روسی وزارت خارجہ طلب کیا گیا جہاں انھیں وزارت کی جانب سے ایک حکم نامہ دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اطالوی نائب بحری اتاشی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ روم میں روسی سفارت خانے کے دفاعی اتاشی کے دفتر کے خلاف اٹلی کے حکام کی غیر منصفانہ اور بے بنیاد کارروائیوں کے جواب میں روس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں