The news is by your side.

Advertisement

طالبان کی عالمی کانفرنس: روس کا بڑا مطالبہ

روس نے افغانستان میں استحکام کے لیے طالبان کے اقدامات کو تسلیم کیا ہے تاہم اس بات پر تشویش کا اظہار ‏کیا ہے کہ افغان سرزمین پر دیگر دہشت گرد تنظمیں خطے کی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماسکو میں طالبان سمیت دیگر ممالک کی عالمی کانفرس شروع ہو گئی ہے، ‏‏15 اگست کو اقتدار میں آنے کے بعد طالبان حکام کے یہ اعلیٰ سطح مذاکرات ہیں۔

کانفرنس کا آغاز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے خطاب سے ہوا، انہوں نےکہا کہ افغانستان میں اب بھی ‏دہشت گردی کا خطرہ ہےافغانستان میں مخلوط حکومت کے قائم کا مطالبہ کرتے ہیں عالمی برادری کو افغانستان ‏میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

عالمی کانفرنس میں امریکا کی شرکت نہ کرنے پر روسی وزیرخارجہ نے افسوس کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں ‏پاکستان اور چین سمیت دس ممالک کے نمائندے شامل ہوئے۔
روسی وزیرخارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی بحران اور مزید مہاجرین کی ہجرت کو روکنے کے لیے ‏کابل کو ’’ موثر ‘‘ امداد فراہم کرے۔
یہ مذاکرات روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے گزشتہ ہفتے خبردار کرنے کے بعد ہو رہے ہیں، روسی صدر نے خبردار ‏کیا تھا کہ داعش کے جنگجو افغانستان میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ روس کے ساتھ سابقہ سوویت جمہوریہ میں ‏اختلاف پھیلایا جا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں