The news is by your side.

داعش نے روس کا مسافرطیارہ تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی، 224 ہلاک

قاہرہ: مصر میں روسی ایئرلائن کاطیارہ گر کرتباہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 224 مسافر جاں بحق ہوگئے ہیں

عراق اور شام میں برسرِ پیکار شدت پسند گروہ داعش نے روسی طیارے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم انہوں نے کاروائی کس طرح کی اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

طیارے میں 214 روسی شہری جبکہ تین یوکرین کے شہری سوار جبکہ عملے کے بھی سات ارکان جہاز میں موجود تھے ، پرواز کے 23 منٹ بعد ہی پرواز کا ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

صحرائے سینا میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں مشغول دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والے مسلح گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں روس کی جانب سے جاری حملوں کا انتقام لینےکے لئے طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

فوجی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صحرائے سینا میں سرگرم دولت اسلامیہ کے گروہ کے پاس بلند فضاوٗں میں کسی طیارے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ طیارے میں پہلے سے کوئی بم نصب کیا گیا یا کسی ایمرجنسی کی صورت میں طیارے نے لینڈنگ کے لئے نچلی پرواز کی ہواور اسے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہو۔

واضح رہے کہ طیارے کا ملبہ اور لاشیں پانچ کلومیٹر کے دائرے میں پھیلے ہوئے ہیں۔

روسی خبر رساں ادارے آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق طیارے میں 220 سے زائد افراد سوار تھے۔

آج صبح مسافرطیارے کا ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونے بعد اس کے مصر کے صحرائے سینا میں گرکر تباہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

مصر کے وزیر اعظم شریف اسماعیل نے بھی طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق کر دی۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ ایئر بس اے-321 مصر کے شرم الشیخ ایئر پورٹ سے روس کے دارالحکومت ماسکو میں سینٹ پیٹرز برگ ایئرپورٹ جا رہا تھا۔

طیارہ روس کی ایک فضائی کمپنی کوگالی ماویا ایئر لائن کے بیڑے میں شامل تھا۔

تباہ ہونے والے جہاز میں زیادہ تر روس کے باشندے سوار تھے جو سیاحتی دورے پر آئے ہوئے تھے۔

روس کے صدر ولادی میرپیوٹن نے روسی مسافر جہاز کے مصر میں تباہی کی تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔

ولادی میر پیوٹن نے روس میں ایک روز کے سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں