The news is by your side.

ملک چھوڑنے پر روسی شہریوں کا مؤقف سامنے آ گیا

استنبول: ملک چھوڑنے پر روسی شہریوں کا مؤقف سامنے آ گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق روس کی یوکرین کے خلاف شدید جنگ کی تیاریاں دیکھ کر روسی شہریوں نے ملک چھوڑنا شروع کر دیا ہے، روسی شہریوں کے لیے استنبول پہلی پسندیدہ منزل ہے جہاں وہ بغیر ویزا بھی آ سکتے ہیں۔

این پی آر کے مطابق یوکرین میں جنگ کے لیے ریزرو فورس کو متحرک کرنے کے اعلان کے بعد روسی شہری بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے لگے ہیں، اگر ایک طرف استنبول کے ایئر پورٹ پر ارائیول ٹرمینل پر روسیوں کا ہجوم ہے تو دوسری طرف جارجیا کی سرحد پر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

استنبول ایئرپورٹ پر روسی شہریوں نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے امریکی میڈیا کو بتایا کہ مستقل قریب میں جنگ ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اس لیے وہ روس چھوڑ رہے ہیں۔

روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ سے اڑان بھرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ جس فلائٹ سے آیا ہے، وہ 20 سال سے لے کر 50 سال تک کی عمر کے لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔

شہری نے بتایا کہ سبھی افراد سے پولیس والوں نے پوچھ گچھ بھی کی، سوالات کیے گئے کہ آپ نے یہ ٹکٹ کب خریدا؟ مقصد کیا ہے؟ کیا آپ نے فوج میں سروس کی؟ کب کی؟

واضح رہے کہ چند دن قبل صدر پیوٹن نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین میں لڑنے کے لیے عسکری تربیت پانے والے شہریوں پر مشتمل تین لاکھ فورس بھیجی جائے گی۔ دوسری طرف روس میں جنگ مخالف شہریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس پر 38 مختلف شہروں سے 1003 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ادھر روس میں متنازع شہروں کی شمولیت کے لیے ریفرنڈم ہو رہا ہے، تو اُدھر یوکرین کے شہر میلی ٹوپول میں پولنگ شروع ہو گئی ہے، جہاں سرکاری ملازمین نے ووٹ کاسٹ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں