The news is by your side.

Advertisement

روسی اشیاء پر پابندی، کیا پولینڈ "یوٹرین” لینے جارہا ہے؟

وارسا : پولینڈ کی پارلیمنٹ کے شہری اتحاد کے رکن پاؤل پونسیل جوز نے سرکاری ریڈیو کو بتایا ہے کہ پولینڈ کی حکومت نے روسی کوئلے پر پابندی لگانے میں بہت جلدی کی تھی، ان کی رائے میں سپلائی میں اچانک کمی سے عام آدمی کو نقصان پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج یہ ایک مسئلہ ہے اس طرح کے بنیاد پرست فیصلے بہت جلد بازی میں کیے گئے تھے، اس کے لیے قدرے سکون سے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے لیے جو برسوں سے روسی کوئلے کی درآمدات میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کا انحصار بھی روسی کوئلے پر تھا کی اچانک مکمل طور پر سپلائی بند کرنا بہت ہی غلط اور جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف بڑھ رہے ہیں، حالیہ برسوں میں حکومتی فیصلے اس حقیقت کا باعث بنے ہیں کہ ہم نے روس سے کوئلے کی درآمد کو 10 ملین ٹن سے تجاوز کر دیا ہے۔

اب ہمارے ہاں روس سے درآمدات میں اچانک کٹوتی ہوئی ہے جو کہ کسی حد تک روس کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ پولش شہریوں کے لیے نقصان دہ ہیں جن کے پاس کوئلے سے چلنے والے چولہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں