The news is by your side.

روس روزانہ اربوں روپے کی گیس ضائع کرنے لگا

ماسکو: یوکرین پر حملے کے بعد روس نے یورپی ممالک کو گیس سپلائی محدود کرکے اربوں روپے کی قدرتی گیس ضائع کرنا شروع کردی ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق روس فن لینڈ کی سرحد کے قریب پورٹوایا سینٹ پیٹرزبرگ میں موجود ایک ایل این جی پلانٹ میں روزانہ ایک کروڑ امریکی ڈالر مالیت کی گیس کو جلا کر ضائع کررہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی یہ مقدار اس سے پہلے روس جرمنی کر برآمد کررہا تھا، تاہم اب یوکرین پر حملے کے باعث یورپی ممالک کی جانب سے لگنے والی پابندیوں کے کے بعد روس نے بھی یورپی ممالک کے خلاف معاشی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور توانائی ذرائع کو یورپ کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔

برطانیہ میں جرمنی کے سفیر نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ روس گیس جلا رہا ہے کیونکہ "وہ اسے کہیں اور فروخت نہیں کر سکتا”۔

دوسری جانب سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ بہت زیادہ مقدار میں فضا میں پھیل سکتی ہے، جبکہ پلانٹ سے نکلنے والا دھواں آرکٹک برف کے پگھلنے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پلانٹ سے اٹھتے شعلوں کو سب سے پہلے جون میں فن لینڈ کے شہریوں نے دیکھا تھا جبکہ محققین کے مطابق اس پلانٹ سے حرارت کے اخراج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ نورڈ اسٹریم پائپ لائن کے کمپریسر اسٹیشن کے قریب واقع ہے جہاں سے جرمنی کو زیر سمندر گیس فراہم کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے روسی تیل کی درآمدات میں اضافہ کر دیا

خیال رہے کہ روس نے جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک کو جولائی کے وسط سے پائپ لائن کے ذریعے سپلائی محدود کردی ہے، روس کا کہنا ہے کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے پائپ لائن کے ذریعے گیس سپلائی محدود کی گئی ہے تاہم جرمنی کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یہ خالصتاً ایک سیاسی اقدام ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں