site
stats
عالمی خبریں

پانچ برس کی صافیہ، 85 کلو وزنی، موت و زندگی کی کشمکش میں فتح یاب ہوئی

ریاض : محض پانچ سال کی عمر میں پچاسی کلو وزن رکھنے والی صافیہ جنیاتی تبدیلی کی عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہے معالجین معدے کا آپریشن کر کے بچی کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

صافیہ اپنے بڑھتے ہوئے وزن کے باعث چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہی تھی اور گھر میں بھی وہ وہیل چیئر استعمال کیا کرتی تھی جب کہ ایک بڑا کیک، پانچ بڑے پیزے اور پورا کریٹ کولڈ ڈرنگ پینے کے بعد بھی اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی تھی اس کے علاوہ  اداراک، سمجھ بوجھ اور ردعمل دینے میں بھی ننھی صافیہ کو مشکلات کا سامنا تھا.

صافیہ کے معالجین کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی جنیاتی پیچیدگی کا شکار تھی جس میں کم ہی بچے مبتلا ہوتے ہیں تاہم یہ کافی گھمبیر قسم کی صورت حال ہوتی ہے جس میں مسلسل بھوک لگنے کے سبب ایک کم عمر بچی دس آدمیوں جتنا کھانا کھا جانے کے باوجود سیر نہیں ہو پاتی ہے چنانچہ کافی سوچ بچار کے بعد بچی کے معدے کا آپریشن کیا گیا.

معالجین کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد صافیہ تیزی سے روبہ صحت ہے اور اس کی ایک ماہ تک مانیٹرنگ کے بعد مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں جب کہ بچی کا وزن بھی بیس کلو تک کم ہوگیا ہے اور چلنے پھرنے میں بھی آسانی ہو گئی ہے ساتھ وہ مکمل اور پُرسکون نیند بھی لے پا رہی ہے جو کہ خوش آئند نشانیاں ہیں.

صافیہ اب سرجری و ریکوری کے بعد اسپتال سے گھر منتقل ہوچکی ہے تاہم اب بھی ڈاکٹرز کی مسلسل نگرانی میں ہے جو اس کی خوراک اور ورزش کے باقاعدہ ٹائم فریم کو منظم اور مربوط رکھے ہوئے ہیں اور ایک ایک تبدیلی پر نگاہ جمائے ہوئے ہیں اور پُر امید ہیں کہ صافیہ اس طریقہ علاج سے جلد فطری حالت پرآجائے گی.

جب کہ غیرمعمولی بیماری کا شکار صافیہ کے والدین بیٹی کے معدے کے آپریشن کے بعد کافی مطمئن دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ صافیہ اب نہ صرف یہ کہ روبہ صحت ہے بلکہ اُس نے اپنا بیس کلو وزن بھی کم کر لیا ہے جب کہ کھانے پینے کی عادات اور بھوک کی طلب میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top