The news is by your side.

Advertisement

نام وَر شاعر اور ادیب صبا اکبر آبادی کا یومِ وفات

اردو کے نام ور شاعر، ادیب اور مترجم صبا اکبر آبادی 29 اکتوبر 1991ء کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے تھے۔ آج نظم و نثر کی آبیاری کرنے اور اردو ادب کو اپنی تخلیقات سے مالا مال کرنے والے اس نام وَر تخلیق کار کی برسی ہے۔

صبا اکبر آبادی کا اصل نام خواجہ محمد امیر تھا۔ وہ 14 اگست 1908ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں‌ نے شاعری کا آغاز کیا تو استاد خادم علی خاں اخضر سے اصلاح لی۔ 1928ء میں صبا اکبر آبادی نے ادبی ماہ نامہ ’’آزاد‘‘ نکالا۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے ہجرت کی اور سندھ کے شہر حیدرآباد میں‌ قیام کیا، بعد میں‌ کراچی میں سکونت اختیار کرلی اور یہیں ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

صبا اکبر آبادی کے شعری مجموعوں میں اوراقِ گل، سخن ناشنیدہ، ذکر و فکر، چراغِ بہار، خوں ناب، حرزِ جاں، ثبات اور دستِ دعا شامل ہیں۔ مرثیہ نگاری بھی صبا اکبر آبادی کا ایک مستند حوالہ ہے اور ان کے لکھے ہوئے مرثیوں‌ کے مجموعے سربکف، شہادت اور قرطاسِ الم شائع ہوئے۔

انھوں نے فارسی ادب سے عمر خیام، غالب، حافظ اور امیر خسرو کا کلام منتخب کر کے اردو میں‌ منظوم ترجمہ کیا۔ صبا اکبر آبادی نے ایک ناول بھی لکھا اور وہ ’’زندہ لاش‘‘ کے نام سے شایع ہوا۔

صبا اکبر آبادی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

یہ ہمیں ہیں کہ ترا درد چھپا کر دل میں
کام دنیا کے بدستور کیے جاتے ہیں

اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک
رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

سونا تھا جتنا عہدِ جوانی میں سو لیے
اب دھوپ سر پہ آ گئی ہے آنکھ کھولیے

Comments

یہ بھی پڑھیں