The news is by your side.

Advertisement

سندھ کا بلدیاتی قانون 2013 والا ہے بس کچھ ترامیم کیں، سعید غنی

کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات سندھ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا ہے کہ ہم نے بس 2013 کے بلدیاتی قانون میں کچھ ترامیم کیں، اس بل سے متعلق غلط فہمیاں اور لسانیت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنما اور وفد سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں سعید غنی نے کہا کہ 2013 کے بلدیاتی قانون میں ہونے والی ترامیم کو نیا نظام یا ایکٹ نہیں کہا جاسکتا، بلدیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم محکمہ بلدیہ سے لینے کے پیچھے ہماری نیک نیتی ہے، جس پر پروپیگنڈا کر کے اسے مشکوک بنایا جارہا ہے، اب بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جس سے نظام میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں جن چیزوں پر اعتراض کررہی ہیں ہم نیک نیتی کے ساتھ انہیں دور کررہے ہیں، سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ کیا ہے۔ اپوزیشن کی سفارش پرکراچی کو 18 ٹاؤنز  میں تقسیم کیا گیا، شہرکو نئےقبرستان کی ضرورت ہے جس پر تیزی سےکام جاری ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھاکہ ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ بلدیاتی ایکٹ آسمانی صحیفہ نہیں، سیاسی جماعتوں کی تجاویز پر مزید ترامیم کی جاسکتی ہے، ہم جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو کھلے دل سے تجاویز کی دعوت دے رہے ہیں مگر کسی کا ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام اسمبلی میں پیش نہیں ہوا بلکہ یہ آرڈیننس کے ذریعے لایا گیا، اسی طرح اسلام آباد میں بھی آرڈیننس کے ذریعے نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا گیا۔

صوبائی وزیرناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے بیان کو غلط رنگ دے کر لسانیت کی طرف لےجایا جا رہا ہے، اب دھونس اور دھمکی کا وقت نہیں اور نہ ہی یہ کوئی آر ٹی ایس ہے جسے بیٹھا دیا جائے، کسی کو ترامیم پر تحفظات ہیں توبات کرے اور لوگوں کے جذبات کو نہ ابھارے، ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تمام قومیتیں قابل احترام ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں