The news is by your side.

Advertisement

یاسر شاہ کی ‘ہوشیاری’ پکڑی گئی

ساؤتھمپٹن: قومی ٹیم کے لیگ اسپنر یاسر شاہ نے بولنگ کراتے ہوئے غیر ارادی طور پر ہاتھ پر تھوک لگا لیا۔

گیند پر تھوک لگانے سے پہلے یاسر کو فوراً ہی احساس ہوا تو ہاتھ پتلون سے صاف کرلیا۔

یاسر نے تو تھوک لگا کر ہاتھ صاف کرلیا لیکن کیمرے سب کچھ دیکھا لیا۔ کورونا کے پیش نظر گیند پر تھوک لگانا ممنوع ہے۔

اس سے قبل کورونا وبا کے دوران نئے قوانین نافذ ہونے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں گیند کو تھوک لگانے کا پہلا واقعہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین ٹیسٹ میچ میں پیش آیا تھا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف مانچسٹر میں ٹیسٹ کے چوتھے روز انگلش ٹیم کے اوپنر ڈومینک سبلی نے غلطی سے بال کو تھوک لگا دی تھی۔

آن فیلڈ امپائرز نے بال کا معائنہ کر کے بال کو ڈس انفیکٹ کیا اور فیلڈنگ سائٹ کو گیند دے دی۔ نئےاصولوں کے مطابق بال پرتھوک لگانے پر امپائر دو وارننگ کےبعد ٹیم پر پانچ رنز کی پینلٹی لگاسکتا ہے۔

تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی

آئی سی سی نے احتیاطی تدابیر کے تحت گیند کو چمکانے کے لیے تھوک کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی ایسا کرتا ہوا پایا گیا تو امپائر صورتحال کے مطابق کچھ نرمی کریں گے اور ٹیم کو وارننگ دیں گے۔

فی اننگز میں ٹیم کو دو وارننگ دی جائیں گے جس کے بعد مسلسل اس عمل کو دہرانے پر بیٹنگ سائیڈ کو 5 رنز دے دیے جائیں گے جب کہ بولنگ سے قبل کھلاڑی کو گیند پر لگی تھوک صاف کرنے کا پابند کیا جائے گا۔

متبادل کھلاڑی

ٹیسٹ میچ کے دوران کسی کھلاڑی میں کورونا علامات ظاہر ہونے پر ٹیم کو متبادل پلیئر شامل کرنے کی اجازت ہوگی تاہم اس کے لیے میچ ریفری سے منظوری ضروری ہوگی۔

متبادل کھلاڑی کے حوالے سے منظورہ شدہ نیا اصول ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے نہیں ہوگا۔

نیوٹرل امپائر کی شرط ختم

میچ کے لیے نیوٹرل امپائر کی شرط ختم کر کے میزبان ملک کے امپائر کے انتخاب کی اجازت دے دی گئی، یہ تبدیلی پروازوں کی بندش اور فضائی سہولیات کی بروقت دستیابی نہ ہونے کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

ڈی آر ایس میں اضافہ

سی ای سی نے اضافی ڈی آر ایس کی منظور بھی دی ہے جس کے مطابق اب ٹیسٹ میچ کی فی اننگز میں ایک ٹیم کو دو کی بجائے تین ڈی آر ایس دیے جائیں گے۔

مقامی امپائر کی کم تجربہ کار ہونے کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی سی نے ٹیسٹ میں مزید ایک ڈی آر ایس شامل کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں