The news is by your side.

Advertisement

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی بریت، پاکستانی خاتون نے بھارتی عدالت میں فیصلہ چیلنج کردیا

نئی دہلی: پاکستانی خاتون نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بری ہونے والے ملزمان کے فیصلے کو بھارت کی عدالت میں چیلنج کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق حفیظ آباد کی رہائشی راحلیہ وکیل کے والد بھی سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں جاں بحق ہوئے تھے، انہوں نے ہریانہ کی عدالت میں مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند سمیت دیگر تین کی رہائی کے فیصلے کو چیلنج کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اپنے وکیل مومن ملک کے ذریعے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی البتہ اُس کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

پاکستانی درخواست گزار کے وکیل مومن ملک کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے اپیل عدالت میں جمع کرادی امید ہے کہ عدلیہ اسے سنے گی اور بری ہونے والے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا‘‘۔

مزید پڑھیں: سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا مقدمہ 12 سال بعد فیصل آباد میں درج

یاد رہے کہ 18 فروری 2007 کو پانی پت کے قریب ہونے والے ٹرین بم دھماکے میں 68 کے قریب مسافر جاں بحق ہوئے تھے، متاثرہ مسافروں میں سے بیشتر کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ہریانہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کیا اور پھر جولائی 2010 میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے علاقے فیصل آباد میں بھی متاثرہ شہری نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی تھی، 12 سال بعد تھانہ ڈی ٹائپ کالونی میں حادثے سے متعلق ایف آئی آر درج کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق مقدمہ متاثرہ شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں قتل اور دھماکا خیز مواد یکٹ سمیت پانچ دفعات شامل کی گئیں۔ متاثرہ شہری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیاکہ بھارتی عدالت سے انصاف نہ ملنے پر مقدمہ درج کرایا، سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں تین بیٹیاں اور تین بیٹے شہید ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: سمجھوتہ ایکسپریس: مرکزی ملزمان کی رہائی، پاکستانی دفتر خارجہ کی شدید مذمت

اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی عدالت نے اقبالِ جرم کے باوجود سوامی اسیم آنند، راکیش شرما، کمال چوہان اور راجندر نامی دہشت گردوں کو بری کردیا، متاثرہ شہری نے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان لایا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں