The news is by your side.

Advertisement

بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کا مرکزی ملزم رہا کردیا

نئی دہلی : پاکستان پردہشتگردی کا الزام لگانے والے بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کوآگ لگا کر اڑسٹھ پاکستانی مسافروں کو زندہ جلانے والے مرکزی ملزم کورہا کردیا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کو دوہزار سات میں آگ لگائی گئی تھی۔

پاکستان دشمن مودی سرکار نے پاکستان دشمنی میں انصاف کی دھجیاں اڑا دیں، پاکستان اوربھارت کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس کوآگ لگا کراڑسٹھ بے گناہ پاکستانیوں کو زندہ جلانے والے مرکزی ملزم سوامی آنند کورہا کردیا گیا۔

نوسال قبل ہونے والی اس ہولناک دہشتگردی کے گواہوں پرانتہا پسند حکومت نے اتنا دباؤ ڈالا کے گیارہ گواہ عدالت میں دئیے گئے اپنے ہی بیان سے منحرف ہوگئے۔

سرکاری وکیل کا بھی یہی کہنا ہے کہ تفتیشی ادارہ ہندو شدت پسندوں کے خلاف مقدمہ کمزور کرنے کے لئے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے، انتہا پسند مودی حکومت میں سمجھوتہ ایکسپریس کے مقدمے کا فیصلہ کیا ہوگا،اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے اچانک سمجھوتہ اپکسپریس کیس کے گواہوں کے منحرف ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا یہ ایک خطرناک روش ہے۔

  سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکہ 2007 میں ہریانہ کے شہر پانی پت کے نزدیک ہوا تھا۔ جس میں 68 افراد جاں بحق ہوئے جن میں غالب اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔ اس دھماکے میں سوامی اسیم آنند سمیت کئی ہندو شدت پسند گرفتار کئے گئے۔ یہ مقدمہ چندی گڑھ سے ملحقہ شہر پنج کولہ کی ایک عدالت میں چلا، مقدمے کے اصل ملزم اور آر ایس ایس کے سرگرم دہشت گرد سوامی اسیم آنند کو گزشتہ دنوں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق کچھ عرصہ قبل انگریزی کے سرکردہ بھارتی جریدے ’ کیری آن‘ نے دہشت گرد سوامی اسیم آنند کا ایک طویل انٹرویو شائع کیا تھا جس میں انھوں نے بم دھماکوں کے کئی بعض واقعات کے بارے میں اہم انکشافات کئے تھے۔ جریدے کے مدیر ہرتوش سنگھ بل کا کہنا ہے کہ این آئی اے نے کبھی ان انکشاقات کی روشنی میں کوئی تفتیش نہیں کی۔ ہرتوش کا کہنا ہے کہ گواہوں کے منحرف ہونے میں ایک منظم طریقہ کار نظر آتا ہے اور اس سے یہ کیس ہی کمزور نہیں ہوگا بلکہ بھارت کی پوزیشن بھی متاثر ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں