The news is by your side.

Advertisement

سان فرانسسکو میں برقی سگریٹ پر پابندی عائد

سان فرانسسکو پہلا امریکی شہر جہاں برقی سگریٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے

واشنگٹن : سان فرانسسکو کی انتطامیہ نے شہر میں برقی سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کردی جس کے بعدسان فرانسسکو ای سگریٹ پر قدغن لگانے والا پہلا امریکی شہر بن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سان فرانسسکو کی انتظامیہ نے منگلکے روز برقی سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائدکرنے اورآن لائن فروخت کرنے کو غیر قانونی قرار دینے کےلیےووٹنگ کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ریاست کیلیفورنیا کےشہر سان فرانسسکو امریکا کی سب سے مشہور برقی سگریٹ تیار کرنے والی کمپنی جول لیبز کا گھر سمجھا جاتا ہے۔

جول لیبز کا کہنا تھا کہ سٹی انتطامیہ کا یہ اقدام سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو واپس سگریٹ کی جانب مبذول کرے گا اور ’کالا بازاری کا باعث بھی بنے گا‘۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ سان فرانسسکو کی میئر لندن بریڈ کے پاس اس قانون پر دستخط کرنے کے لیے 10 دن ہیں۔ قانون دستخط کیے جانے کے 7 ماہ کے اندر نافذ العمل ہوجائے گا۔

خدشہ ہے کہ مختلف فرمز اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتی ہیں۔

برقی سگریٹ کے مخالفین نے کہا ہے کہ کمپنیاں مختلف ذائقہ شدہ مصنوعات کےذریعے نوجوانوں کو نشانہ بناتی ہیں ۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ای سگریٹ کے باعث صحت پر پڑنے والے اثرات کی سائنسی تحقیقات ہونا ضروری ہیں، برقی سگریٹ نوجوانوں کو سگریٹ کی عادت سے بچانے کےلیے ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) قومی ریگولیٹری نے برقی سگریٹ تیار کرنے والی کمپنیوں سگریٹ کی قیمت کا تعین کرنے والے 2021 تک کی ڈیڈ لائن دی ہے جبکہ یہ ڈیڈ لائن پہلے اگست 2018 تک تھی جسے بڑھا2021 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

امریکا کا بیماری کنٹرول اورجرایثم کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے مرکز کے مطابق امریکا میں نیکوٹین استعمال کرنے والے نوجوانوں کی تعداد گزشتہ برس 36 فیصدتھی جو برقی سگریٹ کے استعمال کے باعث بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے وفاقی قوانین کے تحت سگریٹ نوشی کی کم از کم عمر 18 برس ہےجبکہ کیلیفورنیا اور دیگر ریاستوں میں تمباکو نوشی کی عمر 21 برس معین ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں