The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کارسازکو گزرے آٹھ سال مکمل ہوگئے

کراچی : سانحہ کارسازکو کو آٹھ سال مکمل ہوگئے۔سانحہ کارسازاس وقت رونما ہوا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلوس پر خود کش حملہ کیا گیا۔

پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا اعزازپانے والی محترمہ بے نظیر بھٹو آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کرکے اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو کراچی ائیر پورٹ پہنچیں تو ان کا فقید المثال استقبال ہو ا۔

عوام کا ایک جم غفیرمحترمہ کے استقبال کےلئے موجود تھا، بے نظیر بھٹو کو پلان کے تحت کراچی ائیرپورٹ سے بلاول ہاؤس جانا تھا لیکن جیالوں کے ٹھاٹھے مارتے ہوا سمندرنے مختصر سے فاصلے کو انتہائی طویل بنا دیا۔

کارکن اپنے محبوب قائد کو اپنے درمیان دیکھ کر انتہائی خوش اور پرجوش تھے ۔ اوررات 12 بجے کے بعد بے نظیر بھٹو کا قافلہ جب شاہراہ فیصل پر واقع کارساز کے مقام پر پہنچا تو یکے بعد دیگر ہونے والے دو بم دھماکوں نے اپنے قائد کی آمد کا جشن مناتے کارکنوں کو خون میں نہلادیا۔

دھماکوں میں ایک سو ستر سے زائد افراد شہید اورساڑھے پانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے اس حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تو جان بچ گئی مگر انہیں اپنے سیکڑوں کارکنوں کی شہادت کا غم اٹھانا پڑا۔

سانحہ کی تحقیقات کےلئے اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے حکم پر ڈاکٹرغوث محمد کی سربراہی میں ایک رکنی ٹریبونل تشکیل دیا جس نے فوری طور پر کارروائی کرتےہوئے سانحہ میں زخمی ہونے والےافراد کے بیانات قلمبند کرنا شروع کئے۔

خطروں میں گھری اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کااعزاز پانے والی اس بہادر رہنما کو ستائیس دسمبر کو پھر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بار دشمن کامیاب رہا، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کردی گئیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں