The news is by your side.

Advertisement

ایران نے معاہدے کے بعد خطے میں دہشت گردی کو مزید فروغ دیا، خالد بن سلمان

ریاض\واشنگٹن : امریکا میں تعینات سعودی سفیر خالد بن سلمان نے امریکی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کے بعد حاصل ہونے منافعے کوخطے میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کےلیے استعمال کیا.

تفصیلات کے مطابق امریکا میں تعینات سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر امریکا کی حمایت کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کیا ہے’جوہری معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے نظریات کو توسیع دے رہا تھا‘۔

خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ امریکا نے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرکے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ پہلے کی طرح اقتصادی پابندیاں عائد کرے گا۔

امریکا میں تعینات سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے ہونے والے معاہدے نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں اپنی غلط سوچ اور نظریات پھیلانے میں تعاون فراہم کیا اور ایٹمی معاہدے کی وساطت سے جو مالی منافع ایران کو ہوا وہ اس نے خطے میں دہشت گردی اور انتشار پھیلانے میں استعمال کیا۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں گذشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری صورتحال اس جہاز جیسی ہے جو آٹو پائلٹ پر ہے اور پہاڑ کی جانب بڑھ رہا ہے‘۔

سعودی سفیر خالد بن سلمان کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ سنہ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدہ طے ہونے کے بعد ایران کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار مملکت کی حیثیثت سے اقدامات کرنے چاہیے تھے جو اس نے نہیں کیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ میں سرگرم دہشت گردوں کی مزید حمایت کرنے لگا اور بیلسٹک میزائل جسیے خطرناک میزائل حوثی جنگوؤں فراہم کیے تاکہ وہ نہتے سعودی شہریوں پر میزائل داغ سکیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں