The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیرملکی ملازمین کے لیے خطرے کی گھنٹی!

ریاض: سعودی عرب میں سعودائزیشن کے تحت غیرملکی ملازمین کی جگہ مقامی شہریوں کو نوکریاں دی جاری ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نے توانائی کے شعبے میں بھی 75 فیصد سعودائزیشن کا فیصلہ کیا ہے یعنی اس پیشے میں صرف 25 فیصد تارکین وطن ورکرز ہوں گے باقی مقامی بھرتی کیے جائیں گے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں 2030 تک سعودائزیشن کی شرح 75 فیصد تک پہنچا دی جائے گی۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان

انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملکی اشیا پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب توانائی کی مالک ریاست ہے، ہمارے نوجوان وژن 2030 کو کامیاب بنانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں جو کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ توانائی کے متبادل ذرائع سوچ سمجھ کر اپنائے جائیں گے۔

مملکت کے وزیر توانائی کا ماننا ہے کہ کاربن سرکلر اکانومی کا تصور ہمیں ہائیڈرو کاربن کی پیداوار جاری رکھنے، برآمد کرنے اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں