The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : غیرملکی مسافر اپنے ساتھ کیا کیا لاسکتے ہیں؟

ریاض : سعودی حکومت ملکی قوانین پر عمل درآمد پر سختی سے کاربند ہے، خصوصی طور پر اسمگلنگ اور ممنوعہ اشیاء کی آمد پر قانون تیزی سے حرکت میں آجاتا ہے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق مملکت میں کسٹم کے حوالے سے قوانین واضح ہیں، مسافراپنے ساتھ نقد رقم کتنی لے جا سکتے ہیں اور کتنی مالیت کی ذاتی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی لگے گی اس بارے میں سعودی حکام کی جانب سے بیانات کے ذریعے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

سعودی عرب میں کسٹم قوانین کے حوالے سے پوچھا گیا ہے کیا سعودی عرب آنے پر کتنے سگریٹ لاسکتے ہیں، نسوار بھی لاسکتے ہیں؟

سعودی کسٹم قوانین کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے مسافر زیادہ سے زیادہ200 سگریٹ لاسکتے ہیں،کسٹم قوانین کے مطابق تمباکو نوش افراد کے لیے حقے میں استعمال کرنے والا تین کلو تک تمباکو لانے کی اجازت ہے۔

کسٹم قوانین میں مزید کہا گیا ہے کہ مسافروں کے پاس200 سے زیادہ سگریٹ یا تین کلو سے زیادہ حقے میں استعمال ہونے والا تمباکو لانے کی صورت میں اسے ضبط کرکے کسٹم ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے۔

مذکورہ کسٹم ضوابط کا نفاذ16جنوری2020 سے کیا گیا جس کے بعد سے ہوائی اڈوں، بری یا بحری کسٹم چیک پوسٹس پر اس بارے میں چیکنگ کی جاتی ہے۔

واضح رہے سعودی عرب میں "نسوار” ممنوع ہے اوراس پرپابندی عائد ہے اس لیے مسافروں کو چاہئے کہ قوانین پرسختی سے عمل کریں تاکہ کسی قسم کی مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خروج نہائی کے بارے میں جوازات سے دریافت کیا گیا کہ خروج نہائی ویزا لگا ہوا ہے مگر اقامہ ایکسپائر ہوگیا، کیا سفر کیا جاسکتا ہے؟

اس حوالے سے جوازات کا کہنا تھا کہ خروج نہائی ویزہ سٹمپ ہونے کے بعد اگر اقامہ ایکسپائر ہو جائے تو اس پر مقررہ مدت جو کہ 60 دن ہوتی ہے کہ دوران سفر کیا جا سکتا ہے۔

خروج نہائی ویزا حاصل کرنے کے بعد سفر کے لیے اقامے کی مدت ضروری نہیں ہوتی۔ کیونکہ خروج نہائی ویزے کے بعد 60 دن کے اندر اندر سفر کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے لیے اقامہ درکار نہیں ہوتا۔

خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ ویزہ اسٹمپ ہونے کے ساتھ ہی کارکن کا اقامہ کی فائل جوازات کے سسٹم میں سیز ہوجاتی ہے جس کے لیے اقامہ ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

واضح رہے وہ افراد جو خروج نہائی پر مستقل بنیادوں پر مملکت سے جاتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ60 دن کے اندر اندر سفر کریں، بصورت دیگر مقررہ مدت گزرنے کے بعد سفر نہ کرنے کی صورت میں خروج نہائی ویزے کو کینسل کرانا ضروری ہوتا ہے۔

خروج نہائی کینسل نہ کرانے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، فائنل ایگزٹ ویزے کو کینسل کرانے کے لیے کارآمد اقامہ ہونا ضروری ہے، اس لیے اگر اقامہ ایکسپائر ہوگیا تو اسے پہلے تجدید کرایا جائے جو جرمانہ کی ادائیگی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں