The news is by your side.

Advertisement

سعودی اقامہ ہولڈرز کے لیے بڑی خبر

ریاض : سعودی محکمہ جوازات نے تمام غیر ملکیوں کیلئے وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر اقامہ سے متعلق تمام تفصیلات بیان کی گئیں ہیں۔

ایگزٹ ری انٹری جسے عربی میں خروج وعودہ کہا جاتا ہے ماہانہ بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے، ابتدائی طور پر دو ماہ کا ویزہ جاری ہوتا ہے جس کی فیس 200 ریال ہوتی ہے۔

ابتدائی دو ماہ کے بعد اضافی مدت ماہانہ 100 ریال کے حساب سے حاصل کی جاسکتی ہے جبکہ اس سے قبل 6 ماہ تک کے خروج وعودہ کی فیس صرف 200 ریال ہی ہوا کرتی تھی۔

ایک شخص نے سوال پوچھا ہے کہ اہل خانہ کا خروج وعودہ 6 ماہ کا لگایا ہے، ری انٹری کی مدت میں 4 ماہ باقی ہیں اقامہ منسوخ کرانے پر کیا جمع کردہ فیس واپس لی جاسکتی ہے؟

جوازات کا کہنا ہے کہ خروج وعودہ ویزے کے لیے جمع کرائی گئی فیس استعمال کے بعد واپس حاصل نہیں کی جاسکتی۔

واضح رہے کہ جوازات کے قانون کے مطابق خروج وعودہ ویزہ ’ایگزٹ ری انٹری‘ ماہانہ بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے ہے جس کی فیس 100 ماہانہ کے حساب سے جمع کرانے کے بعد ویزہ جاری کرایا جاتا ہے۔

خروج وعودہ یعنی ایگزٹ ری انٹری کے لیے جمع کرائی گئی فیس اس وقت تک واپس لی جاسکتی ہے جب تک فیس کے مقابل سروس حاصل نہ کرلی گئی ہو۔

خروج وعودہ ویزہ جاری کرانے اور اسے استعمال کرنے کے بعد فیس قطعی طور پر واپس نہیں لی جاسکتی اس سے قطع نذر کہ خروج وعودہ ویزہ استعمال کیا گیا ہو یا نہیں۔

سوال میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اس میں اہل خانہ کے خروج وعودہ کے بارے میں ہے، اس حوالے سے خیال رہے کہ فیس کی واپسی کا قانون اہل خانہ یا ورک ویزے پر مقیم غیر ملکی کارکن دونوں کے لیے یکساں ہے، یعنی فیس کے مقابل سروس حاصل کرنے کے بعد ادا شدہ فیس ناقابل واپسی ہوتی ہے۔

اقامہ میں نام کی درستی کے حوالے سے ایک خاتون نے جوازات کے ٹوئٹر پر دریافت کیا کہ ’اقامہ میں انگلش والا نام غلط درج کیا گیا ہے جو پاسپورٹ کے برعکس ہے اسے کس طرح درست کرایا جائے؟‘

سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ اقامہ کارڈ میں کسی بھی قسم کی درستی کے لیے لازمی ہے کہ جوازات کے دفتر سے رجوع کیا جائے جس کے لیے پیشگی وقت حاصل کرنا لازمی ہے۔

وقت مقررہ پر جوازات کے دفتر جانے کے لیے اس امر کا بھی خیال رکھیں کہ حاصل کی گئی اپوائنٹمنٹ کا پرنٹ نکال لیں جسے کاؤنٹر پر لازمی دکھانا ہوتا ہے۔

وقت مقررہ پر جوازات کے دفتر پہنچ کر وہاں اصل پاسپورٹ پیش کیا جائے ساتھ ہی اقامہ اور پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بھی ہمراہ رکھیں۔

یاد رہے کہ غیر ملکی کارکن اپنے کسی بھی معاملے میں براہ راست جوازات کے دفتر سے رجوع نہیں کرسکتا، اس کے لیے کارکن کا سپانسر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ نمائندہ ہی اس امر کا مجاز ہوتا ہے کہ وہ جوازات کے دفتر سے رجوع کرکے کارکن کے معاملے کو حل کرے۔

خیال رہے کہ اہل خانہ کے ہمراہ مقیم غیرملکی کیونکہ اپنے اہل خانہ کے اسپانسر ہوتے ہیں اس لیے انہیں یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے قانونی معاملات کو انجام دینے کے لیے جوازات سے رجوع کرسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں