The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب نے وزارت توانائی کا نیا وزیر نامزد کردیا

ریاض : سعودی عرب نے خالد الفالح کو اسٹیٹ آئل سعودی آرامکو کے چیئرمین مقرر کر دیا ہے، اس سے قبل علی النعیمی 1995 سے وزات پیٹرولیم کے عہدے پر فائز تھے.

تفصیلات کے مطابق سرکاری ٹی وی کے ذریعے ایک شاہی فرمان میں اعلان کیا گیا کہ سعودی وزارت پیٹرولیم کی وزارت کا نام تبدیل کر کے وزارت توانائی، صنعت اور معدنی وسائل کا نام دے دیا گیا، اور خالد الفالح کو وزارت توانائی، صنعت اور معدنی وسائل کا وزیر نامزد کردیا گیا.

ریاض نے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو مدنظررکھتے ہوئے 2014 میں تیل کے حوالے سے نئی ضکمت عملی متعارف کروائی ہے جس کے تحت سستے تیل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائےگا تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جاسکے.

سعودی تجزیہ کاروں کی نظر میں خالدالفالح کی وزارت توانائی، صنعت اور معدنی وسائل کے عہدے پر تقرری نئی متعارف کی جانے والی پالیسی اور عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے.

سداد ابراہیم الحسینی سعودی توانائی مشیر کا کہنا تھا کہ خالد الفالح کی تقرری ایک طویل عرصے سے متوقع تھی،انہوں نے کہا کہ خالد الفالح کو توانائی اور بجلی کےشعبوں کی قیادت کرنے کا طویل تجربہ ہے.

خالدالفالح نے 1982 میں ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی سے میکینکل انجینئرنگ میں ڈگری گریجویشن کرنے کے بعد، آرامکو میں 30 سال تک خدمات انجام دیں، 2009 میں ان کو چیف ایگزیکٹو نامزد کیا گیا.

سابق پیڑولیم وزیر نعیمی جو اس سال آگست میں 80 سال کے ہوجائیں گے، انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 12 سال کی عمر میں سعودی اسٹیٹ آئل آرامکو سے کیا اور اعلی عہدے پر فائز رہے، نعمیی کو رائل کورٹ میں مشیر نامزد کردیا گیا.

نعیمی نے ہمیشہ تیل کی مارکیٹ میں حریفوں کا مقابلہ کیا اور انہوں نے سعودی تیل کی سپلائی اور کو ہمیشہ بڑھانے کی کوشش کی .

انہوں نے اوپیلک، تیل برآمد کرنے والی تنظیم کو اپنی قابلیت کے ساتھ عدم استحکام سے محفوث رکھنے کی کوشش کی باوجود اس کے کہ ریاض کےاہم اسٹریٹجک حریف، ایران پر عراق اور لیبیا، کو پابندیوں کے ساتھ جنگوں کا سامنا تھا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں