The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون منظور

ریاض: سعودی عرب میں مجلس شوریٰ نے خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون سے متعلق قرارداد کی منظوری دے دی، قانون کا منصوبہ وزارت داخلہ نے شاہی فرمان پر تیار کیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ قانون 8 شقوں پر مشتمل ہے، قانون کا مقصد ہراسیت کے جرم کا انسداد، اس کے مرتکب افراد پر سزا کا نفاذ، جرم کا شکار ہونے والے کا تحفظ اور اس کی عزت و توقیر اور شخصی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

قانون کے تحت ہراسیت کے جرم کے ارتکاب پر ملنے والی سزا دو سال جیل اور ایک لاکھ ریال جرمانہ یا دونوں میں سے کوئی ایک ہوسکتی ہے، قید کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ برس تک بڑھائی جاسکتی ہے اور جرمانے کی رقم تین لاکھ ریال سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

اس کے علاوہ ہراسیت پر اکسانے، اس پر متفق ہونے یا کسی بھی صورت میں ارتکاب میں مدد کرنے پر بھی مقررہ سزا کا نفاذ لاگو ہوگا۔

سعودی شوریٰ کونسل کی ایک رکن لطیفہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ہراساں کرنے کے خلاف آج منظور کیے جانے والے قانون کو سعودی عرب کے قوانین میں تاریخی اہمیت حاصل ہے۔

ہراساں کرنے کے کسی بھی ارتکاب سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کی شناخت کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور اس کا شکار ہونے الے کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہیں کی جائے گی، سوائے اُس وقت جب کہ تحقیق یا عدالتی کارروائی میں اس کی ضرورت پیش آئے۔

واضح رہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزارت داخلہ کو اس نظام کی تیاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں تاکہ معاشرے اور افراد کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں