The news is by your side.

Advertisement

انسانی حقوق کی پامالی پر اقوام متحدہ میں سعودی عرب کو تنقید کا سامنا

جینیوا : سعودی عرب کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی کونسل میں انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر پہلی مرتبہ تنقید سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کا بہیمانہ قتل عام اور سعودی عرب میں آزادی اظہار رائے پر پابندی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں امریکا کے علاوہ تمام ممالک نے سعودیہ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز جینوا میں یورپی یونین کے تمام رکن ممالک نے سعودی عرب پر زور دیا کہ انسانی حقوق کےلیے خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔

سلامتی کونسل کے اراکین کا مطالبہ ہے کہ سعودی عرب خاشقجی قتل کیس میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ہیومن رائٹس کونسل کے قیام کے بعد گیارہ برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تمام ممالک نے مشترکا بیان میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارتے کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے ’سعودی عرب میں اپنے حقوق کےلیے آواز اٹھانے والے افراد کو انسداد دہشت گردی کے تحت قید کردیا جاتا ہے‘۔

ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی خصوصی تفتيش کار ايگنس کيلامارڈ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سعودیہ میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے پردہ اٹھائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ رياض حکومت کی جانب سے اس پوری پيش رفت پر فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہيں آيا ہے۔

مزید پڑھیں : بیرون ملک پناہ لینے والے سعودیوں کی تعداد میں تین گناہ اضافہ ہوگیا، اقوام متحدہ

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پناہ حاصل کرنے والے سعودی عرب کے شہریوں کی تعداد میں پانچ سالوں کے دوران 317 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 میں 800 سے زائد سعودی شہریوں نے بیرون ممالک میں پناہ اختیار کی جبکہ 2012 میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 200 تھی۔

سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کرنے اور سماجی خدمات میں انجام لینے والے مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے انتقامی کارروائیوں سے بچنے کیلئے ریاست سے فرار اختیار کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں