The news is by your side.

Advertisement

نایاب ترین کچھووں کا علاج کیسے ممکن ہوا؟ حیرت انگیز خبر

جدہ: سعودی عرب میں دنیا کے نایاب ترین کچھووں کو بیماری سے نجات ملنے کے بعد فطری ماحول میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ریڈ سی کمپنی میں نایاب سمندری جانوروں کی صحت و سلامتی کے ڈائریکٹر خالد الدھلوی نے بتایا کہ دو اپریل دوہزار اکیس کو ادارے سے رابطہ کرکے بتایا گیا تھا کہ تعمیراتی ٹیم کو کچھوے ملے تھے جو پانی میں جانے سے قاصر تھے۔

جس پر جنگلی حیاتیات کی افزائش کے قومی مرکز سے رابطہ کرکے فوری طور پر دونوں کچھووں کو علاج کے لیے جدہ شہر کے ایک اسپیشلسٹ سینٹر بھیجا گیا جہاں کئی ہفتے تک ان کا علاج ہوتا رہا۔

خالد الدھلوی نے بتایا کہ دونوں کچھوے نایاب نسل سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں بچانے والی اسکیم کا نام ’امید اور زندگی‘ رکھا گیا، دونوں کو صحت یاب ہونے پر جزیرہ الوقادی میں چھوڑ دیا گیا جو ان کا حقیقی فطری ماحول تھا۔

خالد الدھلوی نے لوگوں کو تاکید کی کہ وہ اپنے اردگرد میں جانوروں کے تحفظ کا پورا خیال رکھیں اور ہر جانور کو اس کے فطری ماحول میں رہنے سہنے میں مدد دیں۔

انہوں نے کہا کہ پلاسٹک، ماہی گیری کے بے کار جال، غیرقانونی شکار اور تیس کلو میٹر سے زیادہ رفتار سے بوٹس چلانا اور ایسے علاقوں میں جہاں سمندری جانور انڈے دیتے ہوں وہاں تعمیرات کرنا، ان کا تعاقب کرنا اور انہیں پریشان کرنا غلط ہے، اس سے جانوروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے بائیس جزیروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے والے منصوبوں کے نفاذ کے دوران ریڈ سی کمپنی کے ماحول دوست پروگرام کی تعریف کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں