کرپشن لے ڈوبی، کھرب پتی سعودی شہزادے کے اثاثوں میں نمایاں کمی -
The news is by your side.

Advertisement

کرپشن لے ڈوبی، کھرب پتی سعودی شہزادے کے اثاثوں میں نمایاں کمی

ریاض: سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال گزشتہ برس تک مملکت کی امیر ترین شخصیت تھے مگر اب اُن کے اثاثوں میں اٹھاون فیصد کمی آگئی۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ برس نومبر میں سعودی ولی عہد شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر بنائی جانے والی اینٹی کرپشن کمیٹی نے بدعنوانی کے الزام میں ولید بن طلال سمیت 200 سے زائد بااثر شخصیات کو حراست میں لیا تھا۔

سعودی حکومت نے کرپشن کی زد میں آنے والے شہزادوں ، وزار اور امرا کو پلی بارگین کی آفر کی تھی جس سے تمام افراد نے استفادہ کیا اور کروڑوں کی ادائیگی کے بعد رہائی ملی۔

مزید پڑھیں: کھرب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال کو رہا کر دیا گیا

دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شمار ہونے والے ولید بن طلال کی دولت میں 58 فیصد کمی ہوگئی کیونکہ انہوں نے رہائی کے عوض حکومت کو اثاثوں کا تخمینہ بھاری جرمانے کی صورت میں ادا کیا۔

بلوم برگ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادے کے برطانیہ میں موجود قیمتی 95 فیصد اثاثوں کی قدر ستر فیصد تک کم ہوئی جو سن 2014 میں سب سے زیادہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں کرپشن کےالزام میں 11 شہزادے اور4 وزیرگرفتار

سعودی حکومت کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد ولید بن طلال کی کمپنی کے شیئرز کی قدر 20 فیصد سے زیادہ کم ہوئی جو اب تک دوبارہ بحال نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ شہزادہ الولید بن طلال شاہ سلمان کے سوتیلے بھتیجے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں