وبا کے ہاتھوں درپیش مسائل کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے ایسی خوراک اپنائی ہے کہ جو قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن پوری کوشش کے باوجود کہ کوئی خطرناک وائرس یا جراثیم ہمیں متاثر نہ کرے۔
ہم مسلسل ایسی خوراک کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں جو ہماری قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی ہے، ایسی کون سی چیزیں ہیں، جن سے آپ کو وبا کے دوران ممکنہ حد تک دُور رہنا چاہیے۔
چینی کا زائد استعمال
چینی کو عام طور پر "سفید زہر” کہا جاتا ہے اگر آپ میٹھے کے شوقین ہیں اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو بڑی مشکل پیش آئے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ خوراک سے چینی کی مقدار کو کم کرنے سے آپ کی مجموعی صحت پر بہترین اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ میٹھی چیزیں کھانے سے خون میں شکر کی سطح میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ایسے پروٹین یعنی لحمیات کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو آپ کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کھانے پینے کی میٹھی چیزوں میں کیلوریز یعنی حرارے بھی زیادہ ہوتے ہیں ، جو آپ کے مدافعت کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
نمک کی زیادتی
نمک کا زیادہ استعمال آپ کے جسم میں مدافعت کے نظام میں زبردست تباہی مچاتا ہے، خاص طور پر چپس، بیکری آئٹمز اور فروزن فوڈ میں بہت زیادہ نمک استعمال کیا جاتا ہے، جو آپ کی مدافعت کو کمزور کرتی ہیں اور یوں آپ کے جسم کے لیے بیماریوں کے خلاف لڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تلی ہوئی اشیا
تلی ہوئی چیزیں کھانے میں بڑے مزیدار لگتی ہیں، لیکن جسم میں مدافعت کے نظام کو متاثر کر کے یہ آپ کی مجموعی صحت کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق تلی ہوئی اشیا کا استعمال دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔
کیفین
کافی اور چائے میں پائے جانے والا کیفین آپ کے سونے کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے، جس کا نتیجہ جسمانی سوزش کی صورت میں نکلتا ہے اور یوں آپ کا مدافعت کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
شراب کی بہتات
شراب کو ‘ام الخبائث’ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں کچھ بھی ایسا نہیں جو فائدہ مند ہو، خاص طور پر مدافعت کے نظام کے تو یہ تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔
امریکی ماہرین کے مطابق شراب کا استعمال قوتِ مدافعت کو کمزور کر کے انسان کو کئی امراض کے دہانے پر لا کھڑا کر دیتا ہے، اس کے جسم کے دیگر حصوں پر بھی بہت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں مثلاً جگر اور گردوں پر، اس لیے وبا کے دوران تو شراب کی تباہ کاریاں کہیں بڑھ گئی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



