The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک نے کاروباری طبقے کو مزید آسانیاں فراہم کر دیں

کراچی : اسٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج کیسز کی مکمل ڈجیٹلائزیشن کے ذریعے کاروبار کرنے میں مزید آسانی فراہم کر دی، منصوبے کا مقصد کاروباری طبقے اور عام افراد کو فارن ایکسچینج سے متعلق ان کی درخواستوں کے سلسلے میں بینکوں سے رجوع کرنے کے لیے مکمل ڈجیٹلائزیشن کا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بینک دولت پاکستان نے ملک میں ڈجیٹلائزیشن کے فروغ اور کاروبار کرنے میں آسانی بڑھانے کے حکومت پاکستان کے وژن کے مطابق ’فارن ایکسچینج کیسز کی مکمل ڈجیٹلائزیشن‘ کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ کاروباری طبقے کو اور عام افراد کو فارن ایکسچینج سے متعلق ان کی درخواستوں کے سلسلے میں بینکوں سے رجوع کرنے کے لیے مکمل ڈجیٹلائزیشن کاپلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ اس منصوبے کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

پہلے مرحلے میں بینکوں کو اسٹیٹ بینک کے سسٹم ’ایس بی پی فارن ایکسچینج ریگولیٹری اپروول سسٹم (آر اے ایس)‘سے 24مارچ 2020ء کو منسلک کیا گیاتھا، چنانچہ بینکوں نے اسٹیٹ بینک کے فارن ایکسچینج آر اے ایس کے ذریعے اپنے متعلقہ کیسز برقی طور پر جمع کرانا شروع کر دیے تھے تاکہ اسٹیٹ بینک اور ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن (بی ایس سی)کی ضوابطی منظوری حاصل کی جائے۔

اس سسٹم میں ایسی خصوصیات شامل کی گئی ہیں کہ یہ صارفین کو ای میل کے ذریعے کیس ٹریکنگ کا شفاف طریقہ کار فراہم کرتا ہے، نیز اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے درج ذیل لنک پر کیس کی تلاش کا آپشن بھی دیتا ہے: / https://case.sbp.org.pk/search.aspx

اس اقدام سے عملی کارگزاری میں نمایاں اضافہ ہوا، اخراجات میں کمی،شفافیت آئی اور اسٹیٹ بینک اور بینکوں میں فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوگیا، سسٹم کے آغاز سے اب تک کاغذات جمع کرانے کے روایتی نظام کے بجائے، ایف ایکس ‘آر اے ایس’ سسٹم کے ذریعے بینکوں کی طرف سے اسٹیٹ بینک کو فارن ایکسچینج کے 59,176کیسز 31 جولائی 2021ء تک ڈجیٹل طریقے سے جمع کرائے جا چکے ہیں۔

پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں اسٹیٹ بینک نے کاروباری برادری کو مزید سہولت دی ، جس کے تحت بینکوں نے زرِ مبادلہ کیس پروسیسنگ کی غرض سے ڈجیٹل طور پر وصول کرنے کے لیے پورٹل تیار کیے۔

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے 16 اکتوبر 2020 ءکو ایک پُروقار تقریب میں اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا ، جس میں اسٹیٹ بینک کا ایف ایکس آر اے ایس (FX RAS) اور 08 بینکوں کے ایف ایکس (FX) پورٹلز کاروباری برادری کے ملاحظے کے لیے پیش کیے گئے۔

یہ پروجیکٹ 30 جون 2021ء کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا جب 27 بینکوں نے، جو صنعت کا مجموعی طور پر 99.6 فیصد زرِ مبادلہ کاروبار چلاتے ہیں ، اپنے پورٹل لانچ کیے تاکہ ان کے کلائنٹس زرِمبادلہ کیسز کو ڈجیٹل طور پر جمع کرا سکیں ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ باقی ماندہ ایک بینک اپنے بنیادی بینکاری نظام کو تبدیل کر رہا ہے اور توقع ہے کہ ستمبر2021ء کے اختتام تک اپنے صارفین کے لیے پورٹل کو مکمل طور پر لانچ کر دے گا۔

بینکوں نے اپنی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے ایف ایکس پورٹلز محفوظ، استعمال میں آسان اور زرمبادلہ سے متعلقہ تمام درخواستوں کا احاطہ کرتے ہوں۔

اسٹیٹ بینک/ ایس بی پی- بی ایس سی اور بینکوں نے مختلف ذرائع جیسے ای میل، ایس ایم ایس اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے توسط سے کاروباری صارفین میں آگاہی بڑھانے کے لیے کوششیں کیں۔

مزید برآں بینکوں نے کاروباری اداروں اور عوام النّاس کو ایف ایکس پورٹلز کو اپنانے میں سہولت دینے کی غرض سے اپنی متعلقہ برانچوں میں خصوصی ایف ایکس ہیلپ ڈیسک قائم کردی ہیں۔ جب کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے ایف ایکس پورٹلز پر کاروباری اداروں کی آرا جاننے کے لیے پاکستان بزنس کونسل اور ایوانِ تجارت برائے بیرون ملک مقیم سرمایہ کاران (او آئی سی سی)کے اشتراک سے دو سروے کیے۔ کاروباری برادری نے اسٹیٹ بینک کی طرف سے ایف ایکس کیسز کو ڈجیٹلائز کرنے کے اقدام کو سراہا اور ایف ایس پورٹلز کے استعمال سے جو آسانی پیدا ہوئی ہے، اس پر بڑی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔

کاروباری برادری اور انفرادی شخصیات کو اس اقدام سے خوب فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جس سے ان کے وقت کی بچت ہوگی اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔اس سے کاغذ کے استعمال میں بھی کمی آئے گی جس سے ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں