The news is by your side.

Advertisement

حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گی ، چیف جسٹس کے ریمارکس

آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع سے متعلق سماعت کل تک ملتوی کردی

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سےمتعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ، چیف جسٹس نے کہا ایسی غلطیاں کی گئیں کہ ہمیں تقرری کوکالعدم قراردیناہوگا، سمری میں دوبارہ تعیناتی،تقرری،توسیع کانوٹیفکیشن جاری کیا،اب بھی وقت ہے دیکھ لیں، حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3سالہ توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی فروغ نسیم آرمی چیف کی جانب سے اور اٹارنی جنرل انورمنصور حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار ریاض حنیف راہی اور پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا یہ بات طے ہے، کل جن خامیوں کی نشاندہی کی انھیں تسلیم کیاگیا، خامیاں تسلیم کرنے کےبعد ان کی تصیح کی گئی ، جس پر اٹارنی جنرل نے مؤقف میں کہا خامیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خامیاں تسلیم نہیں کیں توتصحیح کیوں کی گئی۔

اٹارنی جنرل انورمنصور نے کہا میں اس کی وضاحت کرتا ہوں ، توسیع سےمتعلق قانون کے نہ ہونےکاتاثرغلط ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے صرف11ارکان نے ہاں میں جواب دیاتھا ، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ باقیوں نےہاں میں جواب دیا تھا توکتنےوقت میں جواب دیاتھایہ بتادیں، کل جو آپ نے دستاویزدیں اس  میں11ارکان نے’’یس‘‘لکھاہواتھا، نئی دستاویز آپ کے پاس آئی ہیں تو دکھائیں۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کل فیصلہ پیش کی گئی دستاویز کے مطابق لکھوایا تھا، ٹھیک ہے پھرہم کل والی صورتحال پرہی فیصلہ دے دیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا مجھے پہلے عدالت تفصیل کےساتھ سن لے، تو چیف جسٹس نے کہا کہاں لکھا ہے کابینہ ارکان رائے نہ دیں تو منظور تصور کیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل انورمنصور نے جواب دیا یہ رول19کی ذیلی شق ایک میں لکھا ہے، جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس کیلئے پہلے وقت مقرر کرنا پڑتا پھر 19ایک اپلائی ہوتاہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ دستاویز میں غیرحاضر کابینہ ارکان کےسامنے’’انتظار‘‘لکھا ہے ، رول کے مطابق ان کے’’انتظار‘‘کا مطلب ہاں میں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا یہ ’’انتظار ‘‘کتنے دن ہوسکتا ہے مجھے بتادیں، جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل243میں تنخواہ، مراعات، تعیناتی ، مدت ملازمت کا ذکر ہے ، کیا چیف آف آرمی اسٹاف حاضر سرونٹ آرمی افسرہونا چاہیے، کیا کوئی ریٹائرڈافسربھی آرمی چیف بن سکتا ہے ، آرمی ریگولیشن  میں ترامیم کی گئی ہے تو کاپی فراہم کریں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ نئی ریگولیشن کس قانون کے تحت بنی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا آرمی رولز کے سیکشن176 کے تحت255 میں ترمیم ہوئی، جس پر جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہمیں پوری کتاب کودیکھناہےایک مخصوص حصےکونہیں ،آرمی ریگولیشن 255ریٹائرڈ افسرکو دوبارہ  بحال کرکے سزا دینے سے متعلق ہے،از خودنوٹس نہیں لیا، میڈیا کوغلط فہمی ہوئی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا ایک لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمرکتنی ہے، اٹارنی جنرل نے بتایا لیفٹیننٹ جنرل 57سال کی عمرمیں ریٹائر ہوتا ہے ،  جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کسی لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ سے4دن پہلےترقی ہوتوتوسیع ہوسکتی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا یہ وزیراعظم کی صوابدیدہےمگر3سال کس قانون میں لکھاہے، یہ بہت اہم ایشوہےجس پر پہلے کبھی سوال نہیں اٹھایاگیا، ماضی میں جرنیلوں نےخودکو 4،3بار توسیع دی، کسی نے ان جرنیلوں کی توسیع کوچیلنج نہیں کیا، اب یہ معاملہ سامنے آیا ہے تو تفصیل سےدیکھ لیتے ہیں  ، مستقبل کے لئے کوئی اصول قانون طے ہوجائیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا یہ ٹرم3 سال کی ہےکہاں لکھا ہے، چیف جسٹس نے کہا ہمیں اس تناظرمیں دیکھناہے 3 سال بعدکیاہوناہے ، یہ  تو نارمل ریٹائرمنٹ سے متعلق ہے ،اٹارنی جنرل262اےاورسی کوپڑھیں، اس میں آرمی افسران کےرینکس کےتناسب سےلکھاہے۔

چیف جسٹس نے کہا لیفٹیننٹ جنرل تعیناتی کے4 سال بعدریٹائرڈہوتاہے ، اٹارنی جنرل نے بتایا لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر57لکھی ہے، 4 سال تعیناتی یا57سال عمردونوں میں سے جو پہلے آجائے، چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کاذکرنہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت کانوٹیفکیشن اس وقت آپ کے پاس ہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا اصلی نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کردیتاہوں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت کا تعین کون کرتا ہے، مجاز اتھارٹی کون ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا اس معاملے پر قانون خاموش ہے، چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا آپ نے تو2 مرتبہ تعیناتی کردی ہے، جس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ ہم نے 2 مرتبہ تعیناتی کی ہے ، آرٹیکل 243 اور آرمی ریگولیشن 255دو الگ الگ باتیں ہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا سوال ہے تعیناتی میں مدت ملازمت کہاں سےآتی ہے، آرٹیکل 243تعیناتی سے متعلق ہے اور رول 255دوبارہ تعیناتی کا ہے اور استفسار کیا کیا248 کے تحت لیفٹیننٹ جنرل کوآرمی چیف بنایاجاسکتاہے، ایک شخص کی مدت ملازمت ختم ہوتوکیااسٹیٹس ہو۔

اٹارنی جنرل نے بتایا  چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کےعہدےپرترقی دےکربنایاجاتاہے،  جسٹس کیانی کامعاملہ کچھ اورتھا، جس پر  چیف جسٹس نے کہا   اٹارنی جنرل صاحب جسٹس کیانی نہیں جنرل کیانی تھے، یہ مسئلہ آرٹیکل253 میں حل ہوتاہے ، آرٹیکل 253 کوپڑھ لیتےہیں،  کلاز3کےتحت جنرل کی ریٹائرمنٹ عمریامدت پوری ہونےپرہوتی ہے، وزیراعظم کا اختیار ہے ریٹائرمنٹ کومعطل کرسکتاہے، مگر یہ معطلی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہم آرٹیکل263 پڑھ لیتےہیں ، آرٹیکل 253پورا پڑھ لیں اس میں ریٹائرمنٹ کی پوری اسکیم ہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا میں درخواست کروں گاآرٹیکل263مجھے پڑھنےدیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل صاحب آپ جلدی میں تونہیں تو اٹارنی جنرل کا کہنا تھامیں رات تک کھڑا رکھ سکتاہوں، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی کہا ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ترمیم آرمی رول میں کی جو چیف آف آرمی اسٹاف پرلاگو نہیں، آرمی چیف افسران سےاوپرہےایک اسٹاف ہیں، آرمی چیف کمانڈر  ہیں،ایک الگ کیٹیگری ہیں، 255 میں آپ نےترمیم کی آرمی چیف اس کیٹیگری میں نہیں آتے، آرمی چیف ریگولیشن میں ذکرنہیں اور جس سیکشن 255میں کل ترمیم کی گئی وہ آرمی چیف سےمتعلق ہی نہیں۔آرمی

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ایکٹ میں سپہ سالار کی مدت تعیناتی سےمتعلق کچھ نہیں ،آرمی ایکٹ میں مدت تعیناتی نہیں تورولزمیں کیسے ہو سکتی ؟ آرمی ایکٹ میں صرف لکھا ہے آرمی چیف فوج کی کمانڈ کریں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا رولز آرمی ایکٹ کی دفعہ176اے کے تحت بنائےگئے ،اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کوفوج کی کمانڈ، سروس کے حوالے سے رولز بنانے کا اختیار ہے، جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آج184/3کے حوالے سے رولز فل کورٹ اجلاس میں زیر بحث آئیں گے۔

سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سےمتعلق کیس کی سماعت وقفےکےبعدشروع ہوئی تو جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا آرمی چیف کاتقرروزیراعظم کا اختیار ہے یہ بات واضح ہے، ابہام نہیں کہ وزیراعظم کسی کوبھی آرمی چیف مقررکرسکتےہیں، آپ یہ بتائیں ریٹائرڈ آرمی چیف کو دوبارہ  لگایاجاسکتا ہے یانہیں، اس سوال کا واضح جواب آئے تومسئلہ حل ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ ہم آپ کو پہلےبات کرنےکاموقع دیتے ہیں، بعد میں آپ کوہمیں پوری قانون کی اسکیم بتاناہوگی، مختصر سوالات کے جوابات سےبات نہیں سمجھ آئےگی، آئین کےآرٹیکل243اورآرمی ایکٹ کاجائزہ لےلیتےہیں، اس کےبعدرولزپربات کرکے معاملے کو سمجھتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بغیرسمجھےآپ کےدلائل ہمیں سمجھ نہیں آئیں گے، آپ دیکھ لیں پہلےدلائل دیناچاہتے ہیں یاہمیں سمجھاناہے؟ جس پر  اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جیسے عدالت کی مرضی، دوباتیں اہم ہیں، ایک آرمی چیف کی تعیناتی اوردوسرا رینک جوآفیسرنےلگائےرکھےہیں، یہ دونوں باتیں اوورلیپ نہیں ہیں، آرمی چیف آرٹیکل 243کے تحت تعینات ہوتے ہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا تقرری بہت واضح ہے،وزیراعظم صدرکوسفارش کرتےہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت کامعاملہ کہاں آتاہے، کیا ریٹائرڈ آرمی چیف  کو 243کےتحت دوبارہ تعینات کیاجاسکتاہے؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 243میں مدت ملازمت کاذکر نہیں، 1947 سے آج تک  یہ روایات چلی آرہی ہے، اسے آئینی روایت کہا جاسکتا ہے، جب معاملےکواس تناظرمیں دیکھتےہیں تو مدت کاتعین کیسے ہوگا۔

چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ واضح کردیں عدالت قانون دیکھتی ہےشخصیات بےمعنی ہیں، اگر کوئی شخص قانونی طورپرٹھیک ہےتووہ ٹھیک  ہے، کوئی شخص قانون کے مطابق ٹھیک نہیں تووہ ٹھیک نہیں، جس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا میں اس بات سےاختلاف کروں گا تو جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ پہلے دیکھ لیتے ہیں پھرآپ کا اختلاف بھی سن لیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا آپ آرمی ایکٹ سےمتعلق عدالت کوسمجھائیں، ہم آپ کو اجازت دیتےہیں جوبولناچاہتےہیں بولیں، پھر ہم قانونی نکات پر بات کریں گے، ہم آپ کے دلائل کی تعریف کرتے ہیں، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میں آپ کےتمام سوالات کےجوابات دیتا رہوں گا، جیساعدالت کہے گی ویسےکریں گے ، چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا ہم ان رولز اور ریگولیشن کو پڑھتے ہیں، پاک آرمی کی تقسیم سے پہلے کے رول کو دیکھتے ہیں، جو کہنا ہےکہیں ایک ایک لفظ نوٹ کررہےہیں۔

جسٹس منصورعلی نے استفسار کیا آرٹیکل 248 کےتحت ریٹائرڈ جنرل کوآرمی چیف تعینات کیا جاسکتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے بتایا آرمی چیف کی تعیناتی، مدت 1975 کے کنونشن کے تحت ہے، آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی سےمتعلق عدالت کومطمئن کروں گا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ قانون کی  عدالت ہے،ہمارےسامنےقانون ہےشخصیات نہیں، اگرقانون کےمطابق کوئی چیز غلط ہوتواس کوٹھیک نہیں کہہ سکتے، اگر قانون کے مطابق درست نہیں توپھر ہم فیصلہ دیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا میں فوج کےقانون کوپڑھ کر سنانا چاہتا ہوں، ایکٹوسروس سے متعلق سیکشن2پڑھ کر سناؤں گا، اجنرل قوم کا افسر ہوتا ہے، ہمارے سامنے  سوال آرمی چیف کاہےجنرل کانہیں، عدالت کومیں تعیناتی کی دیگرمثالیں بھی پیش کروں گا، قانون کو اتنا سخت نہیں ہونا چاہیےکہ اس میں کوئی لچک نہ ہو، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے قانون سے دلائل کا آغاز کریں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف آرمی کےکمانڈنگ افسرہیں، جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے سوال کیا چیف آف آرمی اسٹاف میں اسٹاف کامطلب کیاہے، خالی چیف آف آرمی بھی تو ہوسکتا تھا تو اٹارنی جنرل نے جواب دیا اس بارے میں مجھے علم نہیں، پڑھ کر بتاسکتا ہوں، کمانڈنگ افسر وہ ہوتاہےجوآرمی کے کسی الگ یونٹ کا سربراہ ہو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کیا آرمی ایکٹ ایکسٹینشن کاتصور رکھتا ہے، تمام رولز اپنے اختیار ایکٹ سے لیتے ہیں ، آرمی ایکٹ کو ایک بار پھر دیکھ لیں جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایکسٹینشن سےمتعلق آرمی ایکٹ کی شق آپ نےہمیں نہیں دکھائی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا مدت کا ذکر ایکٹ میں موجود نہیں ،رولز میں ہے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تعجب ہورہا ہے ایکٹ میں مدت کا کچھ تو ذکر ہونا چاہیے تھا کیا ایکٹ ایکسٹینشن کے معاملے پر خاموش ہے؟ جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کےسیکشن176کوپڑھیں جس کےتحت آرمی رولز بنائے جاتےہیں، رولزاورریگولیشن ایکٹ سےباہرجارہےہوں تواسی ایکٹ کاحصہ تصور کیاجائے ؟ دوسری یہ کہ جوچیز ایکٹ میں ہے اس لیےرولز بنائےجائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کاہرسیکشن الگ یونٹ پلٹون کوظاہرکرتاہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا وہ جوکہتےہیں فوج میں کمیشن میں گیا تو کیاان کو ذمہ داری ملتی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے جواب دیا کمیشن آرٹیکل243 کے تحت ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس میں تولکھاہےجونیئرکمیشنڈافسرکےعلاوہ ہے اٹارنی جنرل نے جواب دیا نہیں ایسا نہیں ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آپ ہمیں جونیئر کمیشنڈ افسر پرکیوں لے گئے تو انور منصور نے کہا جونیئر کمیشنڈ افسر کیپٹن بھی ہوتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کمیشنڈ افسرکی تعریف نہیں، اٹارنی جنرل نے بتایا تعریف ہے، اعلیٰ افسر کمیشنڈ افسرکہلاتےہیں ، جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہیں گربڑ ہے ، ہم سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، اٹارنی جنرل انورمنصور نے مزید کہا ادارے کاایک باقاعدہ نظام ہے، سپاہی کا افسر لانس نائیک  ہوگا، اس طرح پورے ادارےکا نظام ہے، چیف جسٹس نے کہا اگرآپ کی تعریف ختم ہوگئی ہے توآگےبڑھیں۔

اٹارنی جنرل انورمنصور نے کہا سیکشن16پڑھ کر سناؤں گا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا سیکشن 16 ملازمت سےبرخاستگی سےمتعلق ہے ، اٹارنی جنرل نے مزید کہا آرمی چیف کسی کوبھی نوکری سےنکال سکتےہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کیاوفاقی حکومت بھی کسی کو نوکری سے نکال سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا آرمی چیف کو محدود مگروفاقی حکومت کومکمل اختیارات ہیں، جونیئراورچھوٹےافسران کوآرمی چیف نکال سکتےہیں، عمر کابھی تعین ہے کہ کون کس عمر میں کیسے ریٹائر ہوگا، سیکشن 176 میں قواعد کےاختیارات موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا وفاقی حکومت آرمی سےمتعلق قواعدوضوابط بناسکتی ہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا آرمی کاادارہ پوری دنیامیں کمانڈ کے ذریعے چلتا ہے،  میں آرمی ایکٹ کے چیپٹرون ،ٹو اور تھری کوپڑھوں گا، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا ہم اس کے بارے میں جانتےہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا آرمی آفیسرکےحلف میں ہےجان دینی پڑی تو دے گا، یہ بہت بڑی بات ہے، میں خود کو کسی سیاسی سر گرمی  میں ملوث نہیں کروں گا یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہےاگرسیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیاجائے۔

چیف جسٹس نے کہا فیلڈ مارشل سمیت کسی بھی آرمی افسرکوحکومت ریٹائرکرسکتی ہے، حکومت رضاکارانہ یا پھر جبری طور پرریٹائر کر سکتی ہے تو اٹارنی جنرل نے بتایا اس میں کسی مدت کا ذکر نہیں ہے، جس پر جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا بار بارمدت کاذکرآرہاہےتو آپ مدت کےبارےمیں بتا دیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف فوجی معاملات پرحکومت کامشیربھی ہوتاہے، فوج کےنظم و نسق کی ذمےداری بھی آرمی  چیف پرعائدہوتی ہے، فوج کی ساری ریگولیشن دیکھ رہے ہیں تاکہ آپ کےدلائل کوسراہ سکیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا جب قانون میں ریٹائرمنٹ لفظ آتاہےتومدت کابھی تعین ہوتاہے، ریٹائرمنٹ کی مدت کے بارے میں بھی بتائیں، اٹارنی جنرل انورمنصور نے جواب میں کہا میں اس کی طرف بھی آؤں گا، جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کیاایکٹ262سی میں ریٹائرمنٹ کاذکرہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا جب سروس کی مزیدضرورت نہیں ہوتی توریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دیکھناچاہتےہیں جنہوں نےرولزبنائےانکےذہن میں کیااسکیم تھی، اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا میں پہلے آرٹیکل262 سی پڑھنا چاہتا ہوں، ریٹائرمنٹ محدود ہوسکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کچھ عرصہ پہلے آپ نے ریٹائرڈ افسران کوسزا دی ، آپ نے پہلےریٹائرڈ افسران کوسروس میں بلایا پھر سزا دی، ہمیں بتائیں کس قانون کے تحت سروس میں بلا کرسزادی۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ان کودوبارہ حاضرسروس کرکے سزا دی گئی ہم سمجھناچاہتےہیں، 255میں ریٹائرمنٹ دےکرواپس سروس میں بلایا جا سکتا  ہے؟ کیوں کہ صرف حاضر سروس کو سزا دی جاسکتی ہے، جن کو سزا ہوئی ان کے بارے میں بتا دیں کافی چیزیں صاف ہوجائیں گی، ہم اس کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کروں گا، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا نارمل ریٹائرمنٹ کب ہوتی ہے، مدت ملازمت  پوری ہو جائے تو کیا ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی؟ جی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، جسٹس منصور علی نے کہا سروس کی مدت پوری ہوتے ہی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا نوکری سے نکالے جانے پر ڈسچارج یا پھر ریٹائرمنٹ ہوتی ہے؟ ہم سروس ٹرمینیشن سے متعلق پوری اسکیم دیکھ رہے ہیں، نوکری سے برخاستگی  ، ریٹائرمنٹ اورریٹائرمنٹ کی معطلی آتی ہے، جنگ کے دوران عارضی طور پر ریٹائرمنٹ معطل کی جا سکتی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا آرمی ایکٹ پر عملدرآمد کےلیے رولز بنائے گئے، جن آرمی افسران کوسزا ہوئی ریکارڈمنگوالیں تاکہ پہلوؤں کاتعین ہو، 255 کی ذیلی شق اےمیں مقررہ مدت پرریٹائرمنٹ کالفظ ہے، ذیلی شق اےمیں مقررہ مدت پرریٹائرمنٹ کالفظ آپکےحق میں نہیں، آرٹیکل 255بی بھی آپ کے حق میں نہیں جا رہا۔

اٹارنی جنرل انورمنصور کا کہنا تھا کہ ایک جنرل کی ریٹائرمنٹ کی مدت نہیں ہے ، 1970 کے قوانین کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر متعین تھی، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا چیف آف آرمی اسٹاف کوکیاوفاقی حکومت مقررکرسکتی ہے،اٹارنی جنرل نے جواب دیا چیف آف آرمی سٹاف کی ریٹائرمنٹ  متعین نہیں ، یہ ایک عہدہ ہے جو جنرل رینک افسر کا ہوتا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا صدر وزیراعظم کی سفارش پرآرمی چیف کوآ ئینی عہدے کیلئےتعینات کرتاہے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا عدالت کو آرمی چیف کے جنرل کےعہدے پرغورکرناہوگا تو جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا آرمی چیف اور جنرل کو الگ نہیں کیاجاسکتا، ہمارےسامنےآرمی چیف کا معاملہ ہےکسی جنرل کانہیں، شق255آرمی چیف کو ڈیل نہیں کرتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کیا آرمی چیف کی پہلی ٹرم کی تعیناتی میں مدت کاذکرہے، اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا نہیں مدت کا ذکر نہیں ہے ، تو جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا پھر تین سال کی مدت کہاں سےآتی ہے، انور منصور نے بتایا آئینی کنونشن کےتحت 3سے 4سال ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا پھر تو آرمی چیف کوتوسیع چاہیےہی نہیں، پھرانہیں29نومبر کو کیوں ریٹائرڈ کیا جارہاہے، جسٹس منصورعلی شاہ  نے سوال کیا کیا کنونشن کے تحت آرمی چیف 4،3سال بعدریٹائرڈہوجائیں گے تو اٹارنی جنرل نے بتایا عمومی طور پر وہ3سال بعد ریٹائرڈ ہوجاتےہیں، آئین میں آرمی جنرل کی ریٹائرمنٹ کی مدت کاذکرنہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہےجو10سال پہلے ریٹائر ہوئےانہیں دوبارہ لگایاجاسکتا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں اس بات کی کوئی قدغن نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا تاذہ دم ہو کر دلائل سنیں گے،کیس کا فیصلہ ہونا چاہیے اور استفسار کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت   کب  ختم ہورہی ہے؟فروغ نسیم نے جواب دیا کل رات 12بجے آرمی چیف کی مدت ملازمت ختم ہوجائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل توکہتے ہیں جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، فروغ نسیم کے لائسنس معطلی کا بھی مسئلہ ہے، ابھی ہم نے انہیں دلائل کے لیے نہیں  بلایا،پاکستان بارکونسل نےفروغ نسیم کےروسٹرم پرآنے پراعتراض کردیا ہے ، پاکستان بارکونسل کےمؤقف کا احساس ہے، ابھی تو ہم اٹارنی جنرل کو سن  رہے ہیں۔

درخواست گزار نے مطالبہ کیا میری درخواست اب واپس کردیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیٹھناچاہیں تو آپ کی مرضی نہیں بیٹھنا چاہتےتب بھی آپ کی مرضی،  ہوسکتا ہے اٹارنی جنرل کےدلائل کےبعدآپ کوچیف آف آرمی اسٹاف لگا دیاجائے، ہمیں پاک فوج کا بہت احترام ہے،پاک فوج کو پتا تو ہو ان  کا سربراہ کون ہوگا۔

جسٹس منصور نے کہا وفاقی حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہیں کرتی توکبھی توسیع کیسےکر سکتی ہے، کیا مدت ختم ہوجائے توریٹائرمنٹ ہو جائے گی ، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ، جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے مزید کہا مطلب ہے کسی ریٹائرجنرل کوبھی آرمی چیف   لگا سکتے ہیں ہیں، اس  میں تو یہ بھی نہیں لکھاکہ آرمی چیف آرمی سےہوگا، ایسے تو آپ کو بھی آرمی چیف بنا سکتے ہیں ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سےاستفسار کیا آرمی چیف کب ریٹائرہوں گے؟اٹارنی جنرل نے بتایا آرمی چیف کل رات کو ریٹائر ہو جائیں گے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا پھر تو اس کا فوری فیصلہ ہونا چاہیے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سےمتعلق دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا 243 کےتحت وزیراعظم تقرری کی سفارش کرتے ہیں،  اس متعلقہ معاملےمیں کیا ہوا، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا وزیر اعظم کی سمری 255اور آرٹیکل 243کا اشتراک ہیں تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا معاملے  میں سفارش نئی تقرری کے لئے کی گئی، نوٹیفکیشن مدت ملازمت میں توسیع کے لئے کیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا یہ مذاق کیا جارہا ہے ، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسی غلطیاں کی گئیں کہ ہمیں تقرری کوکالعدم قرار دینا ہوگا ، دیکھیں تو صحیح کیا کیا ہے، یہ دکھا رہے ہیں آپ ہمیں ؟ یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے ، آرمی چیف کےمعاملےپراس طرح کی بات توسامنےنہیں چاہیئے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا آرٹیکل243کےتحت کیاریٹائرڈآدمی کودوبارہ تعینات کیاجاسکتاہے، جب تک آرمی چیف دوسرے چیف کو چارج نہیں دیتا تب تک  وہ ریٹائرڈ نہیں ہوتا، جسٹس منصورعلی کا کہنا تھا کہ یہ عہدہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے، چیف آف آرمی سروس نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سمری میں دوبارہ تعیناتی، تقرری اور توسیع کانوٹیفکیشن جاری کیا، اب بھی وقت ہےدیکھ لیں ، اس معاملے میں سنگین غلطیاں کی گئیں جس پر افسوس ہے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نےآرمی چیف کی مدت کم کرکےدوبارہ تعینات کیا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کنونشن روایات ہیں جوبرطانوی آئین سےاخذکی گئیں، جب آئین موجودہےتوروایات کی کیاضرورت۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اب آپ نےنئی بات شروع کر دی ہے، اٹارنی جنرل انورمنصور کا کہنا تھا کہ آرمی کو بغیر کمانڈکے نہیں چھوڑاجاسکتا، جس پرچیف جسٹس پاکستان نے کہا کوئی نہیں چاہتاآرمی کمانڈکےبغیررہے، وزارت قانون کی پوری کوشش ہےآرمی کوبغیرکمانڈرکھاجائے، ایسےتواسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسےآرمی چیف کی ہورہی ہے، آرمی چیف کو شٹل کاک کیوں بنایاگیا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا آرمی بغیر کمانڈ ہوئی تو ذمہ دار کون ہو گا، آج آرمی چیف کیساتھ یہ ہو رہا توکل صدر،وزیراعظم کیساتھ ہوگا، آپ خود کہتے ہیں توسیع اور تعیناتی الگ چیزیں ہیں، نوٹیفکیشن جاری کرنے والوں کی ڈگریاں چیک کرائیں، آئینی اداروں میں روز ایسا ہوتا رہاتومقدمات کی بھرمارہو گی، کل تک کوئی حل نکال لیں،ناجائزکسی کوکچھ نہیں کرنا چاہیے، اگر غیر قانونی ہے تو ہمارا حلف ہے کہ کالعدم قرار دیں، ججز صرف اللہ کو جواب دہ ہیں۔

اٹارنی جنرل انور منصورکا کہنا تھا کہ کمانڈ کی تبدیلی ضروری تقریب ہے، کمانڈ کی تبدیلی تو ایک رسمی کارروائی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا سمری کےمطابق وزیراعظم نےتوسیع کی سفارش ہی نہیں کی، سفارش نئی تقرری کی تھی لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، کیا کسی نے سمری،نوٹیفکیشن پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی، کل ہی سمری گئی اور منظور بھی ہو گئی، آرٹیکل243کے تحت تعیناتی ہوتی ہے توسیع نہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس میں کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں جنرل کبھی ریٹائرنہیں ہوتا، عدالت کے ساتھ ایک اورصاف بات کریں، جو اسٹاف کا حصہ نہیں وہ آرمی چیف کیسےبن سکتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ دوبارہ تعیناتی کا مطلب ہے پہلےتعیناتی ختم ہوگئی، پاک فوج کا معاشرے میں بہت احترام ہے ، وزارت قانون،کابینہ ڈویژن کم ازکم سمری، نوٹیفکیشن تو پڑھیں، فوجیوں نے خود آ کر تو سمری نہیں ڈرافٹ کرنی، ہمارے سامنے تین ایشوز ہیں، پہلا ایشو تقرری کی لیگل حیثیت کا ہے، دوسرا ایشو تقرری کےطریقہ کار کا ہے ، تیسراایشو تقرری کی وجوہات ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا وزیر اعظم کس کو آرمی چیف لگاتے ہیں یہ ہمارا ایشو نہیں ،کل کے بعد وقت نہیں رہ جائے گا پھرفیصلہ کرنا پڑے گا،حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، معاملہ غیر قانونی ہوا تو پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم وکالت لائسنس کا مسئلہ بھی کل حل کر کے آئیں، نہیں چاہتے کل کادن فروغ نسیم کے لائسنس کے معاملے پر نکل جائے، آپ کے لائسنس کامسئلہ حل نہیں ہوتا تو کل کسی کو معاون کے طور پر لے آئیں، یہ ایشو ہم نہیں حل کرسکتے، ہمارے پاس وقت نہیں ملک میں ہیجان برپا ہے۔

بعد ازاں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سماعت کل تک ملتوی کردی۔

گذشتہ روز سماعت میں سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کانوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف، وزارت دفاع اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے اور جواب طلب کرلیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا تھا وزیراعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیارنہیں، صرف صدر پاکستان آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرسکتے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا تھا مدت ملازمت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی۔

مدعی حمید حنیف راہی نے پٹیشن واپس لینے کی درخواست کی تھی ، جس پر سپریم کورٹ نے مدعی کی درخواست واپسی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا درخواست پرسماعت کریں گے، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعیدکھوسہ نے پہلا ازخود نوٹس لیا تھا۔

مزید  پڑھیں: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

بعد ازاں وفاقی کابینہ نےملٹری ایکٹ میں ترمیم کرکےنیا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ، ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، وہ وکیل کی حیثیت سےجنرل باجوہ کاکیس لڑیں گے۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نےآرمی چیف کی مدت ملازمت میں3سال کی توسیع کانوٹیفکیشن19اگست کوجاری کیاتھا، نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں : وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم مستعفی

بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ملک کی مشرقی سرحد کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کیا، فیصلہ کرتے ہوئے بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال، خصوصاً افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کے حالات کے تناظرمیں کیا گیا۔

بعد ازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوبارہ تقرری کے نوٹیفکیشن پر دستخط کر دیے تھے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت پاک فوج کے آرمی چیف ہیں، سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے انھیں 29 نومبر 2016 کو پاکستان کا 16 واں سپہ سالار مقرر کیا تھا اور ان کی مدت ملازمت 29 نومبر 2019 کو ختم ہونا تھی، تاہم اب وہ مزید تین سال آرمی چیف کے عہدے پر رہیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں