The news is by your side.

Advertisement

ڈیموں کی تعمیر سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

دستور پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت کسی بھی شہری کو زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانی کی قلت اور ڈیموں کی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی تمام معیشتوں کا انحصار پانی پر ہے، پاکستان چونکہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں پانی کی اور بھی زیادہ اہمیت ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زراعت کاانحصار پانی کے اکلوتےذریعے دریائے سندھ پرہے، اس وقت ملک میں زندگی کی بقا کے لیے پانی کی سخت ضرورت، مستقبل میں اس کی قلت کو دور کرنے کے لیے سب کے اتفاق کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل دیامراور بھاشا ڈیموں کی تعمیر کی منظوری دے چکی اور ملک میں پیدا ہونے والی قلت اور مستقبل میں ضرورت پرسب متفق ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈیم فنڈ میں دل کھول کرعطیات دینے پر اہل کراچی کا شکریہ ، وزیراعظم عمران خان

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دستور پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت کسی بھی شہری کو زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، عوامی مفاد کے لیے سرکاری خزانے کی رقم مخصوص منصوبے پرخرچ کی جا سکتی ہے، عوام کے مفاد کے لیے سپریم کورٹ رجسٹرار کے نام پر ڈیم اکاؤنٹ کھولا گیا۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا، جس میں تحریک انصاف کے علی محمد خان نے ملک میں نئے ڈیمز بنانے سے متعلق قرارداد پیش کی۔ اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کوئی شخص پانی کے ذخائرکی مخالفت کرے سمجھ سے بالاترہے، حزب اختلاف کا اندازہ لگالیں پانی کے ذخیرے پر اپوزیشن کررہی ہے۔

یاد رہے کہ 6 جولائی کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان نے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے احکامات اور فنڈز قائم کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں نئے ڈیمز بنانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور

فنانس ڈویژن نے ایک قدم مزید اور بڑھاتے ہوئے دیامربھاشا ڈیم فنڈز قائم کرنے کیلئے مختلف اداروں کو خط ارسال کیا تھا، جس میں آڈیٹر جنرل، کنٹرولرجنرل اکاؤنٹس، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان اور دیگر اداروں کے حکام سے لوگوں کی رقوم اسٹیٹ بینک اورنیشنل بینک کی برانچزمیں جمع کرانے کا انتظامات کے حوالے سے اقدامات کرنے کا کہا گیا تھا۔

سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان نے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے 14 جولائی کو اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکلر جاری کیا تھا جس میں تمام رجسٹرڈ کمپنیوں کو کمرشل سماجی ذمہ داری کے تحت ڈیموں کی تعمیر میں عطیات دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اسے بھی پڑھیں: ڈیم فنڈ: 3 ارب روپے کی رقم جمع ہونے کے قریب

دیامربھاشا اورمہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے قائم  فنڈ میں اب اسٹیٹ بینک و دیگر و نجی بینکوں سمیت دیگر سرکاری و پرائیوٹ اداروں کے ملازمین اور عوام نے کروڑوں روپے عطیہ کیے جس کا سلسلہ جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں