The news is by your side.

Advertisement

کمیشن بنے گا یا وزیراعظم نااہل؟ پاناما کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

اسلام آباد: پاناما کیس کی سماعت آج ہوگی، فریقین کو نوٹسز اور دیگر کو پاسز جاری کردیے گئے، وزیراعظم نے کارکنوں کو سپریم کورٹ جانے سے روک دیا، سیکیورٹی اداروں نے سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی انتہائی سخت کردی۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کی سماعت آج دوپہر دو بجے ہوگی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کرے گا۔بینچ نے 23 فروری کو اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو کہ آج 57 روز سنائے گا۔

سیکیورٹی اداروں نے سپریم کورٹ کے گرد سیکیورٹی سخت کردی ہے جب کہ سپریم کورٹ کے جاری کردہ پاسز کی بنیاد پر ہی فریقین سپریم کورٹ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے 13، پی ٹی آئی نے 22، جماعت اسلامی نے 25، عوامی مسلم لیگ نے 21 پاسز کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

فریق جماعتوں کو 15 سے زائد پاس نہ دینے کا حکم

سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار نے ہدایت دی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو 15 سے زائد سیکیورٹی پاس جاری نہ کیے جائیں۔

مقدمے کی سماعت سننے کے لیے ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے وکلا نے بھی پاسز کے لیے ر جوع کر لیا جس پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ پاسز کی تعداد محدود رکھی جائے، سپریم کورٹ کے وکلا کو پاس جاری کیے جائیں۔

ان ہدایات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے 15 رہنما کو انٹری پاسز جاری کردیے گئے۔

ان رہنماؤں میں عمران خان،شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین،شفقت محمود،علیم خان،اسد عمر،شیریں مزاری اعجاز چوہدری،نعیم بخاری، فواد چوہدری، اور سرور خان شامل ہیں۔

کارکنان سپریم کورٹ نہ جائیں، نواز شریف

 

دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے ن لیگ کے کارکنوں کو سپریم کورٹ جانے سے روک دیا اور کہا ہے کہ کسی غیر متعلقہ فرد کو سپریم کورٹ نہیں جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کی سیکیورٹی سخت، رینجرز کو معاونت کا حکم

مقدمے کے فیصلے کے بعد کسی بھی رد عمل کے پیش نظر وزیر داخلہ نے آئی جی پنجاب اور چیف کمشنر کو رجسٹرار سپریم کورٹ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور اردگرد فول پروف سیکیورٹی کی جائے، پولیس اور رینجرز کی نفری پر مشتمل سیکیورٹی تشکیل دی جائے۔

وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ جنہیں پاسز دیں صرف انہیں ہی سپریم کورٹ آنے دیا جائے ساتھ ہی خصوصی اجازت نامہ رکھنے والوں کو بھی عدالت میں داخل ہونے دیا جائے۔

ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے قریب سیاسی سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے،سیکیورٹی کے لیے رینجرز پولیس کی معاونت کرے۔

یہ پڑھیں: پاناما کیس کا فیصلہ : پنجاب بھر میں ہائی الرٹ، پولیس کو ہدایات جاری

اس کیس کے فیصلے کے بعد کسی بھی ممکنہ رد عمل کے نتیجے میں پنجاب بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے، پنجاب رینجرز کو پولیس کی معاونت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس کیس کا فریق جماعتوں سمیت عوام کو بھی بہت بے چینی سے انتظار ہے اور اس بے چینی میں اضافہ اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ نے بیان دیا کہ اس کیس میں ایسا فیصلہ دیں گے کہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ پانامہ لیکس کے تہلکہ خیز انکشافات کو ایک سال اور کچھ دن کا عرصہ گزر چکا ہے،4 اپریل 2016ء کو  پانامہ لیکس میں دنیا کے 12 سربراہان مملکت کے ساتھ ساتھ 143 سیاست دانوں اور نامور شخصیات کا نام سامنے آئے جنہوں نے ٹیکسوں سے بچنے اور کالے دھن کو  بیرونِ ملک قائم  بے نام کمپنیوں میں منتقل کیا۔

پانامہ لیکس میں پاکستانی سیاست دانوں کی بھی بیرونی ملک آف شور کمپنیوں اور فلیٹس کا انکشاف ہوا تھا جن میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کا خاندان بھی شامل ہے۔

ان انکشافات کے بعد پاکستانی سیاست میں کھلبلی مچ گئی اور ہرطرف حکمران خاندان کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیاجانے لگا۔

پانامہ لیکس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم صفدرکا نام بھی شامل تھا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف کے خاندان کا نام پاناما پیپرز میں آیا تو ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی، وفاقی وزرا حکمران خاندان کے دفاع میں بیانات دینے لگے جبکہ اپوزیشن نے بھی معاملے پر بھرپور جواب دیا۔

وزیر اعظم نے قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں اپنی جائیدادوں کی وضاحت پیش کی تاہم معاملہ ختم نہ ہوا اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے لیے علیحدہ علیحدہ تین درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔

کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بینچ ختم ہوگیا اور چیف جسٹس نے تمام سماعتوں کی کارروائی بند کرتے ہوئے نئے چیف جسٹس کے لیے مقدمہ چھوڑ دیا۔

نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بنے جنہوں نے کیس کی از سر نو سماعت کی اور 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ آج 20 اپریل کو 57 روز بعد سنایا جارہا ہے۔

مزید جاننے کے لیے یہ پڑھیں: پانامہ لیکس کو ایک سال کاعرصہ بیت گیا

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں