The news is by your side.

Advertisement

آم کے چھلکوں سے نلکی بنانے کا کامیاب تجربہ

دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ ٹن آم استعمال کیے جاتے ہیں اور اُن کے چھلکوں کو اب تک کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے۔

میکسیکو یونیورسٹی میں پڑھنے والی دو طالبات نے سالانہ سائنسی نمائش میں پھلوں کے چھلکوں سے تیار کی جانے والی نکلیاں دکھائیں جنہیں بوتل یا پانی پینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹ میں مطابق اٹزیل پینا گوا اور الونڈرا مونٹسی رات لوپز نے ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لیے اپنا پروجیکٹ تیار کیا اور دنیا کو باور کرایا کہ نکلیاں پلاسٹک کے بجائے مختلف پھلوں کے چھلکوں سے بھی تیار کی جاسکتی ہیں۔

کالج آف سائنسس میں زیر تعلیم طالبات کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس پروجیکٹ پر کام کرنے کا فیصلہ ایک سال پہلے کیا، ابتدا میں مشکلات کا سامنا تھا مگر طویل جدوجہد اور انتھک محنت کے بعد حل تلاش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے آموں کے چھلکے جمع کر کے پہلے انہیں سکھایا اور پھر انہیں گرینڈ کر لیا جس کے بعد وہ گاڑھے محلول میں تبدیل ہوگئے، بعد ازاں ہم نے انہیں لیبارٹری ٹیوب کے اوپر لپیٹا اور پھر خشک ہونے کے لیے رکھ دیا۔

خشک ہونے کے بعد درمیان میں موجود ٹیوب کو باہر نکال لیا گیا جس کے بعد آم اور دیگر پھلوں کے چھلکوں کی نکلیاں تیار ہوگئیں، پھر ان کی مدد سے جوس ، پانی ، چائے اور کافی بھی پی کر دیکھی تو تجربہ کامیاب رہا۔

آلونڈرا کا کہنا تھا کہ ’یہ دکھنے میں بالکل عام نکلی جیسی ہے البتہ اس کا رنگ تھوڑا تبدیل ہے کیونکہ آم کے چھلکے کو پیس کر آپ کا محلول سنہرا اور کتھئی ہوگیا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہر پھل کی نکلی استعمال کے وقت اپنے فلیور والا ذائقہ دیتی ہے، اگر آپ اس سے پانی پیئں گے تو بہت اچھا احساس ہوگا۔ دونوں طالبات کو سب سے اچھا پروجیکٹ پیش کرنے پر پہلے انعام دیا گیا۔

دوسری جانب ماہرین نے ابھی پھلکوں کے چھلکوں سے بنائی گئی نکلی سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا البتہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اسے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد قابلِ استعمال قرار دے دیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں