The news is by your side.

اسکاٹ لینڈ ‘آزادی ریفرنڈم ‘ نہیں کراسکتا، عدالتی فیصلہ

لندن: اسکاٹ لیںڈ میں دوسرا ریفرنڈم کروانے سے متعلق برطانوی سپریم کورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی سپریم کورٹ نے اسکاٹ لینڈ کو دوسرا ریفرنڈم کروانے سے روک دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کی رضا مندی کے بغیر اسکاٹ لینڈ آزادی کے لیے دوسرا ریفرنڈم نہیں کراسکتا، نئی رائے شماری کرانے کے لیے اسے برطانوی پارلیمنٹ سے اجازت درکار ہوگی۔

برطانوی سپریم کورٹ کی جانب سے متفقہ طور پر سنائے گئے فیصلہ میں کہا گیا کہ عدالت اسکاٹ لینڈ کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے کہ دوسرا ریفرنڈم برطانوی پارلیمنٹ سے متعلق نہیں تھا۔

عدالت فیصلے میں کہا گیا کہ استصواب رائے کو نہ صرف "قانونی اثر بلکہ مادی اثرات” پر بھی غور کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ اسکاٹش ریجنل گورنمنٹ کے وزیر اعظم نکولا اسٹرجن نے گذشتہ ماہ کی دس تاریخ کو اعلان کیا تھا کہ اسکاٹ لینڈ کو انگلینڈ سے آزادی حاصل کرنے کے لیے 19 اکتوبر 2023 کو دوسرا ریفرنڈم کرایا جاسکتا ہے۔

اسٹرجن نے برطانوی پارلیمنٹ سے اجازت کے لیے درکار قانون کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ آیا اسکاٹش پارلیمنٹ کو ریفرنڈم کرانے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ اسکاٹ لینڈ میں 18 ستمبر 2014 کو ہونے والے ریفرنڈم میں اسکاٹس نے آزادی کو 55 فیصد کے ساتھ مسترد کردیا تھا، لیکن یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ (بریگزٹ) برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے سے صورت حال بدل گئی ہے اور ایک نئے ریفرنڈم کی ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں