شارک کی طرح سمندر میں‌ تیرنے والی کشتی اب آپ بھی خرید سکتے ہیں fastest board
The news is by your side.

Advertisement

شارک کی طرح سمندر میں‌ تیرنے والی کشتی اب آپ بھی خرید سکتے ہیں

لندن: برطانیہ کے سائنسی ماہرین نے پرانے اور بے کار لڑاکا طیاروں کے پرزوں اور سامان کو جمع کر کے اب تک کی تیز رفتار شارک نما کشتی کو فروخت کے لیے پیش کردیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ماہرین نے اس آبدوز کشتی کو ’سی بریچر‘ کا نام دیا جو صورت میں شارک مچھلی سے مشابہت اور بالکل اُسی کی طرح پانی میں غوطے لگانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

آبدوز نما کشتی جنگی جہاز کی طرح چلنے کے علاوہ دائیں ، بائیں گھومنے اور پانی کے اندر جاکر باہر نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حیران کُن بات یہ ہے کہ اس کی چھلانگ اتنی اونچی ہے کہ کئی سمندری لہریں آرام سے عبور کی جاسکتی ہیں۔

ماہرین نے کشتی میں 230 سے 260 ہارس پاور کا انجن نصب کیا جو اس برقی شارک کو پانی کے اوپر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ سمندر کی تہہ میں 40 کلومیٹر فی گھنٹہ چلانے کی صلاحیت دیتا ہے۔

آبدوز کشتی میں آن بورڈ اسٹیریو، آئی پوڈ ڈوک، انٹرنیٹ نظام کے علاوہ ائیرکرافٹ کی طرح ایل سی ڈی اسکرین نصب کی گئی ہے جس میں 360 ڈگری تک دیکھنے والا زبردست کیمرہ کے مناظر براہ راست دیکھے جاسکتے ہیں۔

انسانی عقل کو دنگ کردینے والی ریسنگ بوٹ اور آبدور کو ماہرین نے واٹر کرافٹ کا نام بھی دیا،  جس کو تیار کرنے میں تقریباً 80 ہزار ڈالر کا تخمینہ آیا جبکہ اس کو فروخت کی قیمت ایک لاکھ ڈالر  پاکستانی روپے کے حساب سے ایک کروڑ 15 لاکھ 70 ہزار کے قریب مقرر کی گئی ہے۔

کشتی تیار کرنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ’جب ہم نے پرانے اور خراب جنگی طیاروں کو ایسی کھڑے ہوئے دیکھا تو خیال آیا کہ ان کے پرزوں کو کام میں لایا جاسکتا ہے جس کے بعد کشتی پر کام شروع کیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب اس منصوبے پر کام شروع کیا تو ہمیں خود یقین نہیں تھا کہ اتنی بڑی کامیابی حاصل کی جاسکے گی، عوام بڑی تعداد میں اس منصوبے کو سراہا رہے ہیں اور اُن کی خواہش ہے کہ وہ اس کشتی کو خریدیں یا اس میں سفر ضرور کریں‘۔

انجینئر کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی کشتی بنانے میں دو سال کا عرصہ ضرور لگا تاہم بعد میں تیار کی جانے والی کشتیاں کم وقت میں تیار ہوئیں اور یہ بڑی تعداد میں موجود ہیں جنہیں دلچپسی رکھنے والے افراد خرید بھی سکتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں