The news is by your side.

Advertisement

آبزرور اور میڈیا کو پولنگ بوتھ میں جانے کا اختیار ہوگا: الیکشن کمیشن

اسلام آباد: سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ آبزرور اور میڈیا کو بھی پولنگ بوتھ میں جانے کا اختیار ہوگا۔ الیکشن میں فوج کا اختیار صرف سیکیورٹی ہے۔ اس مرتبہ الیکشن میں عام سیاہی استعمال ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدر آمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاثر غلط ہے سیکیورٹی فورسز انتخابی نتائج جمع کریں گے۔ فوج کی تعیناتی کا مطالبہ بھی سیاسی جماعتیں ہی کرتی ہیں۔ پولنگ بوتھ پر امن و امان کی ذمہ داری فورسز کی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پرامن ماحول کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کر رہا ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کے لیے بھی ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے۔ الیکشن کے دن نتائج کی ترسیل صرف متعلقہ افسران ہی کریں گے، پاک فوج اور سیکیورٹی اہلکار نتائج کی ترسیل نہیں کریں گے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ شہری بھی پریزائیڈنگ افسر کو دھاندلی کا بتا سکتا ہے اور سیکیورٹی اہلکار بھی دھاندلی کا پریزائیڈنگ افسران کو بتائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے انتظامات کر لیے گئے ہیں، پولنگ کا سامان تمام علاقوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ سامان کی ترسیل کا کام پلان کے مطابق جاری ہے۔ فوج کی نگرانی میں پولنگ بوتھ تک سامان پہنچا دیا جائے گا۔

بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ 849 حلقوں پر انتخابات کروائے جا رہے ہیں۔ 849 میں سے 100 سے زائد حلقوں پر کیسز چل رہے ہیں۔ 108 حلقوں کے میرٹ پیپر ابھی ہولڈ پر ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں کسی حلقے پر کیس عدالت میں نہیں، بیلٹ پیپر کی ترسیل بھی جلد شروع ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر دور میں الیکشن کمیشن پر تنقید ہوتی رہی ہے، تمام عملہ سویلین ہے اور بھرپور تربیت کی گئی ہے۔ الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کروائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ آبزرور کو بھی پولنگ بوتھ میں جانے کا اختیار ہوگا۔ الیکشن میں فوج کا اختیار صرف سیکیورٹی ہے۔ مقناطیسی سیاہی اس مرتبہ الیکشن میں استعمال نہیں کی جارہی، اس مرتبہ الیکشن میں عام سیاہی استعمال ہوگی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ میڈیا کو پولنگ بوتھ میں جانے کی اجازت ہوگی تاہم موبائل ممنوع ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں