17.3 C
Ashburn
ہفتہ, مئی 18, 2024
اشتہار

سیماب اکبر آبادی: قادرُ الکلام اور نظریہ ساز شاعر

اشتہار

حیرت انگیز

اردو ادب میں‌ سیماب اکبر آبادی کا نام ان کی قادرُ الکلامی اور زبان دانی کے سبب آج بھی زندہ ہے اور انھیں ایک ایسے استاد شاعر کی حیثیت حاصل ہے جس کے شاگرد سیکڑوں‌ تھے۔ سیماب 31 جنوری 1951ء کو اس جہانِ فانی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔

اکبر آباد، آگرہ میں‌ 5 جون 1880ء کو پیدا ہونے والے سیماب کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ شعر گوئی کا آغاز کیا تو اپنے وقت کے نام وَر اور استاد شاعر داغ دہلوی کے شاگرد ہوئے۔ مشقِ سخن کے بعد ایک وقت آیا جب خود سیماب کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ انھیں‌ زبان و بیان پر بڑا عبور تھا اور یہ سب ان کے ذوق و شوق اور لگن کے باعث ممکن ہوا تھا۔

سیماب اکبر آبادی کچھ عرصہ ریلوے میں ملازم رہے، لیکن زبان و ادب کا چسکا ایسا تھا کہ مستعفی ہوکر آگرہ میں ’’قصرُ الادب‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تاج‘‘ اور ایک ماہ نامہ ’’شاعر‘‘ کا اجرا کیا۔

- Advertisement -

علّامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادرُ الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انھوں نے قرآنِ پاک کا منظوم ترجمہ وحئ منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔

ان کا شمار بیسویں صدی کے اوائل کے ان شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے مختلف اصنافِ سخن مثلاً غزل، نظم، قصیدہ، رباعی، مثنوی، مرثیہ، سلام، نوحہ اور حمد و نعت میں فکری و فنّی التزام کے ساتھ کام یاب اور بامقصد تجربے کیے اور اپنے ہم عصروں میں‌ ممتاز ہوئے۔ سیماب اکبر آبادی کے کئی اشعار زباں زدِ عام ہیں۔ ان کا کلام مشہور و معروف گلوکاروں نے بھی گایا۔

علاّمہ سیماب کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں‌ نے مشاعروں کو تفریح بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے پنڈال میں علمی ادبی موضوعات پر مشتمل صدارتی خطبوں کو رواج دیا۔ شاعری میں فحش موضوعات، شراب اور اس کے متعلقات اور تعیّش پرستی سے بھی گریز کیا اور تہذیب و طریق کو رواج دینے کا وسیلہ بنایا۔ علّامہ نے اپنے کلام میں فکر و فلسفہ، نفسیات اور احوالِ واقعی کو جگہ دی۔ سیماب ہمیشہ شاعری میں صحت مند رویے کے پیروکار رہے اور وہ چاہتے تھے کہ وہ دوسرے شعراء خواہ وہ ان کے ہم عصر ہوں یا ان کے شاگرد، شاعری میں روایتی موضوعات کو جگہ دے کر صرف تفریح کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ وقت کے اہم تقاضوں کو سمجھیں اور بلند خیالی اور بلند نگاہی کے ساتھ ساتھ اپنے مشاہدے اور مطالعے کا ثبوت دیں اور شاعری کا وقار بلند کریں۔

انھیں‌ کراچی میں ادبی سرگرمیوں کے ساتھ تاج کمپنی کی فرمائش پر سیرت النبویﷺ تحریر کرنے اور اسلامی تعلیمات کے منظوم تراجم کا بھی موقع ملا۔ انھوں نے کراچی میں اپنی نوعیت کا اوّلین انسٹی ٹیوٹ جامعہ ادبیہ قائم کیا تھا جس کے نصاب میں اردو صرف و نحو، فنِ شاعری، نثر نگاری اور صحافت کی تربیت شامل تھی، لیکن یہ درس گاہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکی اور مروّجہ اکیڈمک اسکول میں‌ بدل دی گئی، مگر اسے اردو شاعری اور اردو صحافت کی تدریس کا اوّلین ادارہ کہا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے اس استاد شاعر نے اپنے مخصوص اور منفرد لب و لہجہ کے سبب عوام میں‌ بڑی مقبولیت حاصل کی۔ نیرنگیِ خیال، شستہ و پاکیزہ، پُراثر اور زبان و بیان کی نزاکتوں اور لطافتوں سے آراستہ ان کا کلام آج بھی نہایت ذوق و شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔

ان کی تصانیف میں ’’کلیمِ عجم‘‘، ’’سدرۃُ المنتہیٰ‘‘، ’’لوحِ محفوظ‘‘، ’’ورائے سدرہ‘‘، ’’کارِ امروز‘‘، ’’ساز و آہنگ‘‘، ’’الہامِ منظوم‘‘(مثنوی مولانا روم کا منظوم ترجمہ) ’’وحئ منظوم‘‘(قرآن مجید کا منظوم ترجمہ) ’’عالمِ آشوب‘‘ (رباعیات)، ’’تغیّرِ غم‘‘(سلام و مراثی)، ’’شعر انقلاب‘(انقلابی نظمیں) شامل ہیں۔

سیمابؔ کے اشعار موجودہ دور اور آج کے شاعرانہ مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے انہی کا ایک شعر دیکھیے۔

کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں