The news is by your side.

Advertisement

بزرگ شہری اغوا، 23 روز گزرنے کے بعد بھی مقدمہ درج نہ ہوسکا

کراچی سپر ہائی وے سے 30 روز قبل ہونے والے بزرگ شہری کی زندگی داؤ پر لگ گئی، پولیس 23 روز گزر جانے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کرسکی۔

ایس ایچ او سائٹ سپرہائی وے نے بزرگ شہری کے اغوا کا مقدمہ درج نہ کرکے یڈیشنل آئی جی احکامات کی دھجیاں اڑا دی ہیں جب کہ پولیس کے عدم تعاون کے باعث 30 روز قبل اغوا ہونے والے بزرگ شہری کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے اور اغوا کاروں نے ایک کروڑ تاوان نہ دینے پر مغوی کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سپر ہائی وے گل گوٹھ کا بزرگ شہری 31 مارچ کواغوا ہوا تھا لیکن 23 روز گزر جانے کے باوجود پولیس تاحال اغوا کا مقدمہ درج نہیں کرسکی ہے۔

اس حوالے سے مغوی بزرگ کے بھتیجے امان اللہ نے اے آر وائی نیوز کو بتایا ہے کہ مقدمہ اندراج کیلئے ایڈیشنل آئی جی کراچی کے احکامات واضح ہیں لیکن ایس ایچ او سائٹ نے مقدمہ درج نہ کرکے اے آئی جی کراچی کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

امان اللہ نے مزید بتایا کہ ان کے چچا بشیراحمد 31 مارچ کو کام پر جانے کا کہہ کر نکلے تھے لیکن واپس نہیں آئے، بشیر کےنمبر سے 6 اپریل کو اغوا کاروں کی کال آئی جس کے اگلے روز ہم اغوا کا مقدمہ درج کرانے ایس ایچ اور تھانہ سائٹ سپر ہائی وے کے پاس گئے۔

امان اللہ کے مطابق ایس ایچ او رانا حسیب نے ان سے اپنی مرضی کے بیان پر زبردستی دستخط کرائے اور کہا کہ میرا بوڑھا چچا لڑکی کےچکرمیں گیا ہے۔ ایس ایچ او نے کہا کہ مقدمہ درج کرانا ہے تو ایس ایس پی ایسٹ سے آرڈر لےآؤ مقدمہ درج کر دونگا۔

امان اللہ نے مزید بتایا کہ اغوا کاروں نے 3 روز قبل چچا بشیر احمد کی ویڈیو بھیجی ہے جس میں اغوا کار اس کے چچا پر تشدد کر رہے ہیں اور اس کا چچا روتے ہوئے فریاد کررہا ہے کہ یہ لوگ مجھے بہت مار رہے ہیں خدا کے واسطے مجھے چھڑاؤ۔

امان اللہ کے مطابق اغوا کاروں نے بشیر احمد کی رہائی کیلیے ایک کروڑ تاوان مانگا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر ایک روڑ روپے نہیں دیے تو تمہارے بندے کو مارکر پھینک دینگے۔

اس ساری صورتحال میں جب پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مدعیوں کوک بھیج دیں مقدمہ درج کردینگے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں