The news is by your side.

’بلقیس بانو میں بہت شرمندہ ہوں‘ شبانہ اعظمی رو پڑیں

بھارت میں گزشتہ دنوں بلقیس بانو گینگ ریپ کیس کے تمام مجرموں کو عدالتی حکم پر رہا کردیا گیا جس نے ہر سنجیدہ طبقہ فکر کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

گزشتہ دنوں مودی کے بھارت نے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی ایک اور شرمناک مثال پیش کر دی، 2002 میں اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بننے والی خاتون بلقیس بانو کے کیس کے تمام 11 مجرمان جیل سے رِہا ہو گئے اور جب وہ جیل سے رہا ہوئے تو ان کا جیل کے باہر ہیروز کی طرح استقبال کیا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ عدالت کے اس فیصلے پر بھارت کے سنجیدہ طبقوں سمیت دنیا بھر میں بلقیس بانو کے حق اور بھارت کے متعصب نظام انصاف پر آواز اٹھ رہی ہے۔

بھارتی فلم انڈسٹری کی ماضی کی نامور اداکارہ شبانہ اعظمی نے بھی اس اندوہناک واقعے پر تبصرے کا اظہار کیا اور اس دوران وہ دہرے نظام انصاف پر رو پڑیں۔

شبانہ اعظمی نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس پر وہ شرمندہ ہیں، میرے پاس بلقیس بانو کیلیے کوئی الفاظ نہیں سوائے اس کے کہ میں بہت شرمندہ ہوں۔

شبانہ اعظمی نے ایک بھارتی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس عورت کے ساتھ اتنا بڑا سانحہ پیش آیا، لیکن اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری، قانونی جنگ لڑی، مجرموں کو سزا دلائی اور ہمت سے اپنی ٹوٹی ہوئی زندگی کو جوڑا۔

لیجنڈ اداکارہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین جو اس ملک میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، وہ خواتین جنہیں ہر روز عصمت دری کے خطرے کا سامنا ہے، کیا انہیں تحفظ کا احساس نہیں ہونا چاہیے؟\

شبانہ اعظمی جو ماضی میں فارم لاز اور شہریت ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالفت کرتی رہی ہیں نے کہا کہ جب بلقیس بانو کیس کے ان مجرموں کو رہا کیا گیا تو ان کا خیال تھا کہ ہر طرف غم وغصہ ہوگا لیکن وہ اس پر معمولی ردعمل دیکھ کر حیران رہ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھی تھی، بلقیس بانو کیس کے بارے میں بات ہورہی تھی، کسی نے کہا کہ اس میں بڑی بات کیا ہے، وہ سزا کاٹ چکے ہیں اب کیا شور مچانا؟ میرا خیال ہے کہ جو یہ بات کر رہے ہیں انہیں یہ نہیں معلوم کہ انہیں وقت سے قبل رہا کردیا گیا، میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو اس کیس میں ہونے والی ناانصافی اور ہولناکی کا پتہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: بلقیس بانو کون ہے اور 2002 میں اس پر کیا قیامت گزری؟ لرزہ خیز داستان

واضح رہے کہ بلقیس بانو کو 21 سال کی عمر میں گودھرا ٹرین جلانے کے واقعے کے بعد ہونے والے مسلم کش فسادات میں اس وقت درندگی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھیں اور اس واقعے میں ان کے خاندان کے 7 افراد کو انتہائی بے رحمی سے قتل بھی کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں