The news is by your side.

شاہ محمود کو کسان احتجاج میں جانے سے روک دیا گیا، گرفتار کرنے کی دھمکی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کو کسان اتحاد احتجاج میں شرکت سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پویس نے مجھےایف نائن پارک میں کسان اتحاد احتجاج میں شرکت سےروک دیا ہے، پولیس اہلکاروں نے مجھے گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے حکومتی ہتھکنڈوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے احتجاج کےبنیادی حقوق کےعین خلاف ہے، میرا امپورٹڈ حکومت سے سوال ہے کہ وہ مزید کتنی آوازیں دبائےگی؟۔

وائس چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مجھے قائل کرلیں کہ میں نے کیا غلط کیاہےجو مجھے روکاجارہاہے، پولیس والےکہتےہیں کہ اوپر سے حکم ہے کہ شاہ محمود قریشی کو کسانوں سے نہ ملنے دیا جائے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا راناثنااللہ اوپرسےحکم دے رہےہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے پورے اسلام آباد کو سیل کرکے رکھ دیا ہے، سارے معاملے میں راناثنا اللہ جیسے فسطائیت سوچ رکھنےوالوں کو استعمال کیاجارہاہے۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ پولیس والے آئیں ہیں وہ مجھے اپنے ساتھ لیجانا چاہتے ہیں، پولیس والےکہتےہیں کہ ڈپٹی کمشنرسےبات کریں انہیں فون کرتا ہوں تو بات نہیں کرتا، اب کہا جارہا ہے کہ راناثنا اللہ کسانوں سےبات کرنےآرہےہیں۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ راناثنااللہ کسانوں ک وکوئی نیا لالی پاپ دینےآرہےہیں، یہ حکومت ملک کوغذائی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے، کسان جس نےفصلوں کی پیداواردینی ہےانہیں حصارمیں رکھاگیاہے۔

شاہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں پراوپن اینڈ شٹ نیب کیسزتھے قوانین میں ترمیم کرکے وہ معززشہری بن گئے، اقتدارکو دوام دینے کیلئے یہ تماش بین ملک کوب حران کی طرف دھکیل رہےہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں