The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی وی حملہ کیس: شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظور

اسلام آباد: سنہ 2014 کے دھرنے کے دوران پاکستان سرکاری ٹیلیویژن پر کیے جانے والے حملے کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظور کرلی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔ سماعت اے ٹی سی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت 1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر منظور کرلی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 فروری تک شاہ محمود کی عبوری ضمانت منظور کی ہے۔

سماعت کے بعد عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مجھ پر دھرنے کے دوران سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں جو الزامات لگائے گئے وہ من گھڑت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔ 8 تاریخ کو دیگر رہنماؤں کے ساتھ دوبارہ پیش ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ طاہر القادری قانون کو مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ ضمانت نہ کروانے کا فیصلہ طاہر القادری کا اپنا ہے۔ ’پارٹی کا فیصلہ ہے عدالتوں میں پیش ہو کر بے گناہی ثابت کریں۔ آج پولیس اسٹیشن میں شامل تفتیش ہو کربیان ریکارڈ کراؤں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر مقدموں کا اندراج بند ہونا چاہیئے۔ ایسا ہونے سے سیاسی کارکنوں کے لیے آسانی ہوجائے گی۔ سیاست میں نئی وضع داری، حوصلے اور تدبر کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا بلوچستان اسمبلی میں ایک بھی رکن نہیں، 6 سینیٹرز کس طرح منتخب کریں گے۔ ہارس ٹریڈنگ سیاست میں بدنما داغ ہے جس سے بچنا چاہیئے۔ ملک میں شفاف سیاست کی کوشش کرنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جس طرح گفتگو ہو رہی ہے وہ قابل افسوس ہے۔ ٹاک شوز میں غیر مناسب زبان کا استعمال بھی درست نہیں۔ زرداری صاحب نے اپنی پارٹی کی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ افسوس کے انہوں نے صوبےسے کیے وعدے پر عمل نہیں کیا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ آئین کی پاسداری ہو اور سینیٹ الیکشن وقت پر ہوں۔ ’خدشہ ہے کچھ قوتوں کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کا پورا عمل آلودہ ہوگا‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں