The news is by your side.

Advertisement

آج بھارت میں بھی مائنس بی جے پی کی باتیں ہو رہی ہیں: شاہ محمود قریشی

مسئلہ کشمیرعالمی توجہ کا مرکزبن گیا،بھارت کشمیریوں کی آواز دبانےمیں ناکام رہا

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج پارلیمانی کشمیرکمیٹی کو وزارت خارجہ میں مدعو کیا تھا، جہاں اس مسئلے کے تاریخی پس منظر اور آئندہ حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا گیا.

ان خیالات کا اظہار  وزیرخارجہ نے اسلام آباد میں خصوصی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ نئی رپورٹس سامنےآئیں، افغانستان کی صورت حال کابھی جائزہ لیا گیا، امن کو بحال کرنے کے لئے ہماری افواج کا کردار اہم ہے، یورپی یونین اوردیگررپورٹس میں پاکستان کی کوششوں کوتسلیم کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کومانا گیا.

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نےانتخابات میں پاکستان کارڈ کا استعمال کیا، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حد سے زیادہ فوج رکھی ہے، بڑی فوج کے بعد بھارت کشمیریوں کی آواز دبانےمیں ناکام رہا، آج مقبوضہ کشمیر کے حالات بگڑتے جا رہے ہیں، مشرقی سرحدپر توجہ بنی رہے ، تو  افغان سرحد پر صورت حال پراثرپڑتا ہے، کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم اور پارلیمنٹ متحد ہے.

مزید پڑھیں: ایل او سی پر فائرنگ، ایک نوجوان شہید، پاک فوج کی جوابی کارروائی، تین بھارتی فوجی ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ بھارت مسئلہ کشمیرپرثالثی چاہتا ہے، نہ ہی دوطرفہ مذاکرات پرآمادہ ہے، بھارت کی جانب سے 10 ہزار اضافی نفری مقبوضہ کشمیربھیجی جارہی ہے، پاکستان نے امن واستحکام کے لئے جو کیا، وہ دنیا کے لئے پیغام ہے.

شاہ محمود قریشی کے بہ قول آج بھارت میں بھی مائنس بی جے پی اے پی سی کی باتیں ہو رہی ہیں، بھارت میں بھی لوگ بی جے پی کی انتہا پسندی پرانگلیاں اٹھا رہے ہیں، محبوبہ مفتی بھی کہتی ہے کہ مائنس بی جے پی اے پی سی ہونی چاہیے، مسئلہ کشمیر اور دورہ امریکا پر خارجہ کمیٹی کو اعتماد میں لیا جائے گا، خطے کے امن کو  سامنے رکھتےہوئےامیدکی کرن دکھائی دے رہی ہے، ستمبر 2018 سے جولائی 2019 تک مسئلہ کشمیرعالمی سطح پرتوجہ کامرکزبنا، جو لوگ پہلےسننےکوتیارنہیں تھےاب وہ اس کےحل کے لئے کوشاں ہیں، بھارت کی جانب سے ایل او سی پرنہتے عوام پرظلم کیا جارہا ہے.

Comments

یہ بھی پڑھیں