The news is by your side.

Advertisement

سعودی فرمانروا کی غیرملکیوں کے بجائے مقامی شہری بھرتی کرنے کی ہدایت

ریاض: سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزارتوں، سرکاری محکموں اور اداروں کے سربراہان کو غیرملکیوں کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

عرب میڈیا کے مطابق شاہی ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سیکریٹری، ایگزیکٹو سیکریٹری، ڈیٹا انٹری اور قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات تک رسائی کے لیے کام کرنے والے غیرملکیوں کے ساتھ معاہدوں کی تجدید نہ کی جائے۔

شاہ سلمان نے کہا کہ سعوی شہریوں کو تربیت دے کر بھرتی کیا جائے، شاہی ہدایت کے بعد اب سرکاری اداروں کے علاوہ حکومتی کمپنیوں میں غیرملکیوں کے ساتھ معاہدوں میں توسیع نہیں ہوگی۔

نئی آسامیوں کے لیے مقامی اخبارات میں اشتہارات دئیے جائیں گے اور ان ملازمتوں کے لیے سعودی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ریاض :‌دو برسوں میں 16 لاکھ غیر ملکیوں نے سعودی عرب کو خیر باد کہہ دیا

محکمہ سول سروس کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سرکاری اداروں میں 93.98 فی صد سعودی شہری کام کررہے ہیں، غیرملکیوں کی شرح صرف 6.2 فیصد ہے۔

سرکاری اداروں میں کام کرنے والے غیرملکیوں کی مجموعی تعداد 73186 ہے، صرف صحت عامہ کا شعبہ ایسا ہے جس میں سعودی شہریوں کی شرح 66.8 فی صد ہے جبکہ غیرملکیوں کی تعداد 33.2 فی صد تک ہے۔

گزشتہ سال 2018 کے دوران 60 سال عمر کے 35 فیصد غیرملکیوں کو برطرف کرکے ان کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں مختلف سرکاری ادارں میں کام کررہی ہے، کئی پاکستانی محکمہ صحت سے وابستہ ہیں، شاہی فرمان کے بعد سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں