The news is by your side.

Advertisement

بیرون ملک جانے سے کیوں روکا ؟ شہباز شریف نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

لاہور: صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نےعدالتی احکامات پرعملدرآمد کیلئےایک اور درخواست دائر کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بیرون ملک اجازت نہ دینے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے، امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔

درخواست میں ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا، وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سات مئی کو لاہور ہائیکورٹ نےباہر جانے سےمتعلق احکامات جاری کئے، لاافسران، ایف آئی اے حکام کی موجودگی میں عدالت نے حکم سنایا، عدالتی حکم نامہ ٹیلی فون، واٹس ایپ ،بذریعہ ای میل متعلقہ حکام کو بھجوایا جبکہ پارٹی کی جانب سے ایف آئی اے میں حکم نامےکی کاپی بھی موصول کرائی گئی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عدالتی احکامات کےباوجود شہباز شریف کو باہر جانےکی اجازت نہ دی گئی، عدالتی احکامات کی توہین آمیز طریقےسے خلاف ورزی کی گئی ، ثابت ہوگیا کہ سرکاری اداروں کو سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا جا رہاہے عدالت سے استدعا ہے کہ سات مئی کے فیصلے پر فوری عمل درآمدکے احکامات جاری کرے۔

دوسری جانب حکومت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ بحری اور فضائی اداروں کو فیصلے سے آگاہ کردیاگیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا گیا ہے ، ای سی ایل میں نام کابینہ کی منظوری اور قانونی ضابطے مکمل ہونے پرڈالاگیا، متعلقہ ریکارڈ اس ضمن میں اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب کا ردعمل

شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا توہین عدالت کےجرم کرنےکاباضابطہ حکومتی اعتراف ہے، عمران صاحب سیاسی انتقام میں اندھے ہوچکے ہیں، عمران صاحب کوعوام کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عیدکی چھٹیوں میں عمران صاحب کو غریب کی یاد آئی نہ مہنگائی کی،عیدپر وزارت خزانہ کھلوا کرعوام کو ریلیف دلانےکی توفیق نہ ہوئی، عمران کےلئے ضروری شہباز شریف کانام ای سی ایل میں ڈالناتھا، عمران صاحب کو فلسطین پر قرارداد تیار کرانےمیں دلچسپی نہیں تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں