The news is by your side.

Advertisement

ترکی پاکستان کے دوسرے گھر جیسا ہے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ترکی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، ترکی پاکستان کے دوسرے گھر جیسا ہے اور ہم ترکی کے دشمن کو پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں، رواں سال دونوں برادر ملک سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منارہے ہیں اور پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کی قیادت، عوام اور افواج گہری قربت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کےدرمیان آئندہ ملاقات ستمبر میں اسلام آباد میں ہوگی ہم ستمبر میں ترک صدر کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔

شہباز شریف نے گرمجوش استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر سے مذاکرات اور ملاقات انتہائی مثبت رہی، ان سےسستی بجلی کی فراہمی پربات چیت ہوئی ہے اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی مفید مذاکرات ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ای کامرس، تعلیم، انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ترکی کے تجربات سے استفادہ کریں گے، دفاعی شعبے میں دونوں ملکوں کا تعاون قابل ستائش ہے، مختلف شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں نےدلچسپی کا اظہار کیا ہے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بلندیوں پر لے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کےعوام مسئلہ کشمیر پر ترکی کے واضح مؤقف پر مشکور ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کیلئے کام کرتا رہے گا، پاکستان حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پرامن اورمستحکم افغانستان کاخواہاں ہے، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کیلئے پاکستان نے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں