The news is by your side.

Advertisement

‘شہباز شریف کے وزیراعظم بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف ہیں’

لاہور : وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہےکہ شہبازشریف کے وزیراعظم بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ نوازشریف ہیں ، شہبازشریف،حمزہ شہباز پر فردجرم عائد ہوناثبوت ہے کہ وہ ساری چیزیں درست تھیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت نے شہبازشریف،حمزہ شہبازپر فردجرم عائد کی، فردجرم عائد ہوناثبوت ہے کہ وہ ساری چیزیں درست تھیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آمدن سے زائداثاثہ جات،منی لانڈرنگ،رشوت ستانی پر چارج شیٹ دی گئی، یہ عوامی دستاویز ہیں جسے تفصیل سے دیکھنے کی ضرورت ہے، دستاویزمیں شہبازشریف فیملی کی لوٹ مار ،اثاثوں کی چارج شیٹ ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ یہ چارج شیٹ51پیراگراف پرمبنی ہے31صفحات پرمشتمل ہے، چارج شیٹ میں شامل سلمان شہباز، علی احمد مفرور ہیں، تیسرامفرور طاہرنقوی شریف گروپ کااسسٹنٹ منیجر دبئی ہے ، نیب مفرور طاہرنقوی کوواپس لانے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ داماد ہارون یوسف بھی اس چارج شیٹ میں اشتہاری قراردیے جا چکےہیں اور نصرت شہباز کو اشتہار ڈکلیئرڈ کرنے کی کارروائی نیب کررہی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ عدالتی فیصلہ پڑھنےسے شہبازشریف کی کارستانیوں کا پتہ چل جائے گا ، طریقہ واردات کےمطابھق ٹی ٹیزسےپیسہ دوسرے ملک منتقل کیا جاتا تھا، غیر قانونی پیسہ فراڈکے ذریعے بھیجا گیا جو منی لانڈرنگ کہلاتی ہے، مشتاق چینی کے نام سے ایک کمپنی ہے، جس میں وہ گناہ قبول کرچکے اور وقار ٹریڈنگ کمپنی مفرور طاہر نقوی کے نام پرہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ منی ایکسچینج کمپنیاں چلانےوالے شاہدمحمود اور آفتاب کا کردار بھی اہم ہے، شاہدمحمودپاکستان اورآفتاب برطانیہ میں منی ایکسچینج کمپنی چلاتا تھا، یہاں سے پیسہ کیش جاتا تھا پھر ٹی ٹی کی صورت میں وہاں وصول کیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن اور ہم سب سمیت ہر کوئی خواتین کا احترام کرتاہے ، ان کی غلطی ہے کہ گھر کی خواتین کے نام پر ٹرانزکشنز کیوں کیں، شہبازشریف نے اپنی لینڈ کروزر کے پیسے بھی انھی پیسوں سے دیئے تھے۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ شریف خاندان نے2008کےبعد تمام فیکٹریز منی لانڈرنگ پیسےسےلگائیں، 70سےزائد لوگوں نے انھیں ٹی ٹیاں بھیجی ہیں ، ٹی ٹیاں بھیجنے والے منظور پاپڑ والے جیسے لوگ تھے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوٹا ہوا دھن راؤنڈ کرکے بینکنگ سرکل سے سفید کیا، 70سے زائد لوگ ہیں اور ہر شخص کی پروفائل موجودہے۔

انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نےاپنےلئےسینئروکیل رکھا،حمزہ کوجونیئروکیل دیا، حمزہ سمجھتےہیں کہ انہیں قانونی مددکی ضرورت ہے تو وہ دی جا سکتی ہے، اب ان کاٹرائل شروع ہوگیاہے، بہانے مفروریاں الگ کرکے 2 اصل ملزمان کے خلاف مقدمہ چلے گا۔

نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے لئےہم برطانوی حکومت سےرابطےمیں ہیں، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نوازشریف مفرورمجرم ہیں، نوازشریف کیساتھ وہی طریقہ کار ہوگا ، جو دوسرے مجرموں کیلئے ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کسی صورت این آراونہیں دیں گے ، ایسانہیں ہےکہ کوششیں نہیں کی گئی فیٹف کی مثال سامنےہے، یہ نیب قوانین میں ترامیم کراناچاہ رہےتھے، ان ترامیم کےمطابق یہ چیزیں جرم ہی نہیں تھیں، ان ترامیم کےمطابق کوئی بھی زورآورطاقتوریہ کام کرسکتاتھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کےوزیراعظم بننےمیں سب سےبڑی رکاوٹ نوازشریف ہیں، جہاں تک کیس کی بات ہے، اس کا سیاسی منظر نامے سے کوئی تعلق نہیں،ان کے کیسزتو بے شمار ہیں اورچلتےرہیں گے اور جہانگیرترین پرجوبھی کیسزہیں وہ عدالتوں میں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں