site
stats
پاکستان

پانامہ کیس ہاریں یا جیتیں فیصلہ قبول کریں گے، شیخ رشید

راولپنڈی : عوامی مسلم لیگ کے لیگ سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں وزیراعظم جیت جائیں ہوسکتا ہے ہار جائیں دونوں صورتوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہے انہوں نے کہا سراج الحق نہیں چاہتے کہ وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جائے۔ شریف خاندان نے قطریوں کو رسوا کر دیا، خط کا مشورہ دینے والا نالائق تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام “سوال یہ ہے “ میں میزبان ارشد شریف سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بعض چہرے نظر نہیں آتے پردے کے پیچھے کچھ اور بظاہر کچھ اور ہوتے ہیں اور جب مکروہ چہرہ بے نقاب ہوجائے تو سینہ تان کر کہتے ہیں کہ کہتے ہیں جاؤ جو ہوتا ہے کرلو کیونکہ وہ مطمئن لٹیرے ہیں جن کو معلوم ہے ہم نہیں پکڑے نہیں جاسکتے، مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے ہمارے ملک میں چور مچائے شور کی فلم لگی ہوئی ہے۔

شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ فوجی حلقوں نے نواز شریف کو مسترد کردیا، فوج اس حکومت سے بالکل تنگ آچکی ہے، پیسوں سے عزت نہیں ملتی عزت اپنے کاموں سے ملتی ہے۔

انہوں نے نواز شریف پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے الیکشن کے لئے کافی پیسہ اکٹھا کر رکھا ہے، ممکن ہے نوازشریف پانامہ کیس جیت جائیں لیکن جب تک ملک میں دو اپوزیشن لیڈر شیخ رشید اور عمران خان باقی ہیں حکومت کو قوم کا پیسہ ہضم نہیں ہونے دیں گے، عوام ہماری بات بھی اسی لئے سنتی ہے کہ عمران اور شیخ رشید سچ بولتے ہیں،ہم نے قوم کے سامنے ان کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ان کی اصلیت سامنے آچکی ہے،عوام اب انہیں گالیاں دے رہے ہیں ،پانامہ لیگ ان کے لئے پاجامہ لیگ بن چکی ہے۔

شیخ رشید نے اپنی توپوں کا رخ جماعت اسلامی کی جانب کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جماعت اسلامی کس بات کی اپوزیشن کر رہی ہے،جماعت اسلامی والوں میں مستقل مزاجی کی کمی ہے، جماعت اسلامی نے ضمنی انتخابات میں ن لیگ ووٹ دیے اور اس کے بدلے میں ایک سیٹ لے لی ،میں سراج الحق جتنی عزت کروں کم ہے لیکن جماعت اسلامی وزیراعظم کی نااہلی نہیں چاہتی۔

بلاول بھٹو سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ بلاول لال حویلی آنا چاہتا ہے ،میری طرف سے بلاول کو ویلکم ہے جب چاہے آجائے اگر اپوزیشن کرنی ہے توآئے ہوائی فائر کرنے نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ہم اٹامک پاور ہیں مگر دعویٰ ہی کرسکتے ہیں کیونکہ حویلیاں میں حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے کے شہید مسافروں کی ڈی این اے کی رپورٹ ابھی تک نہیں آسکی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top