The news is by your side.

Advertisement

ہم سانپ بھی ماریں گےاور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹنے دیں گے، شوکت ترین

اسلام آباد : وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نےسینیٹ سےمنی بجٹ کی منظوری کے لیے دو تاریخ تک کاوقت دیا ہے ، ایک ہفتے کے اندراندر پتاچل جائے گا کہ ہم کیا کرنے والے ہیں، ہم سانپ بھی ماریں گےاور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹنے دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا رہا، کورونا کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا، حکومت جب پہلی بار گئی توآئی ایم ایف نے حکومت کو سخت شرائط دیں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، وزیراعظم نے پہلے دن ہی بڑا فیصلہ کیا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہوگا، آج دنیا وزیراعظم عمران خان کی اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کو سراہتی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو معیشت کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جاناپڑا ، فور کلوژر قانون کو وزیراعظم نے بڑی مشکل سے عدالتوں سے صحیح کرایا۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پراسمارٹ لاک ڈاؤن لگائے اور کاروبارچلتےرہے، بورس جانسن نے بھی کہا لاک ڈاؤن نہیں کریں گے ، کاروباربند نہیں کریں گے۔

شوکت ترین نے بتایا کہ کورونا کے دوران ایگری کلچرمیں انویسمنٹ کی گئی، ہم گندم،شوگر،دالیں وغیرہ امپورٹ کررہےتھے، کورونا کے دوران وزیراعظم نے کنسٹرکشن کو بھی بڑھاوادیا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ احساس پروگرام سے عوام کو ریلیف فراہم کررہےہیں، برآمدات بڑھانے کیلئے حکومت نے بھرپور اقدامات کئے، ہماری 3سے4 بڑی امپورٹ میں بہت اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کئی چیزوں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہوگئیں، کورونا کے باوجود ملک میں صنعتی پہیے کو رکنے نہیں دیاگیا ۔ 2021میں گروتھ 5.37فیصدہوئی کوئی توقع نہیں کررہا تھا،ہماری ترسیلات زر اور آئی ٹی ایکسپورٹس بڑھی ہیں، صنعت،زراعت سمیت تمام شعبوں میں ترقی نظرآرہی ہے۔

معاشی صورتحال کے متعلق شوکت ترین نے کہا کہ تیل کی قیمتیں بڑھنےسےتجارتی خسارہ بڑھا، 5.57فیصد پر گروتھ پچھلے سال ہوئی ہے، میراخیال ہے کہ ہماری گروتھ 5فیصد تک ہوگی، ایف بی آر ریونیوزبڑھ رہےہیں، بجلی کااستعمال 13فیصد بڑھاہے، ایکسپورٹ پہلے 2بلین ڈالر تھیں،اب 3بلین ڈالرز ہورہی ہیں، گزشتہ سال ترسیلات زر29 فیصدبڑھی،اس سال ساڑھے 11 سے بڑھی ہیں۔

کامیاب جوان پروگرام کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ کامیاب پاکستان جوان پروگرام میں تقریباً1بلین گزشتہ ماہ دیاگیا، ہماراارادہ ہےاس پروگرام کو30 بلین پر لیکرجائیں گے، کاشتکاروں کو بلاسود قرضے بھی دیےجارہےہیں جبکہ گھروں کیلئے قرضےدیے رہے ہیں۔

انھوں نے مہنگائی سے متعلق کہا کہ موجودہ صورتحال میں تنخواہ دار طبقہ متاثر ہے، دنیامیں سپلائی ڈیمانڈکاسلسلہ چل رہاہے، ہوسکتاہےکہ سپرسائیکل اگلے 2،3ماہ میں نیچےنہ آئے، ہم کوشش کریں گے کہ مڈل کلاس کی انکم بڑھائیں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت صحیح سمت میں جارہی ہے، آئی ایم ایف نے ہمیں 2تاریخ تک کا وقت دیاہے، انشااللہ 2تاریخ تک منی بجٹ سینیٹ سے منظور کرالیں گے، آپ کوایک ہفتے کے اندر اندر پتا چل جائے گا کہ ہم کیا کرنے والے ہیں، ہم سانپ بھی ماریں گے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹنے دیں گے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقہ شدید مسائل کا شکار ہے، مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ہے، اقدامات کرکے تنخواہ دار طبقے کی ذرائع آمدن بڑھائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں